نظر آ رہا ہے استعفوں کا یہ سلسلہ پارلیمنٹ تک جائے گا:سعد رفیق

ججز کے استعفوں پر خوشی منانے کے  بجائے پیدا ہونے والی  فالٹ لائینز پُر کرنے کی فکر کی جائے
 لاہور(یواین پی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے  جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ کے استعفوں کو دھڑے بندی کی سیاست کی عینک سے دیکھا جائے تو منظر سہانا دکھائی دیتا ہے لیکن غیر جانبدارانہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ استعفے پاکستان میں آئین ، انصاف ، قانون اور جمہوریت کی بالادستی کا خواب دیکھنے والے ہر فرد کیلئے لمحہ فکریہ ہیں،نظر آ رہا ہے کہ استعفوں کا یہ سلسلہ یہاں نہیں رکے گا بلکہ عدلیہ سے ہوتا ہوا پارلیمنٹ تک جائے گا، ایک ذمہ دار ریاست معاملات کو ٹھنڈا رکھتی ہے ، دشمنوں میں گھرا نیوکلیئر پاکستان آخر کہاں تک اور کب تک اندرونی محاذ آراء کا متحمل ہو گا؟،دیرینہ تنازعات کے حل کیلئے نئے تنازعات کو جنم دینا دانشمندی نہیں کہلاتا ۔سوشل میڈیا پر جاری اپنی ایک تحریر میں سعد رفیق نے کہا کہ اطہر من اللہ ججز بحالی تحریک کے دور جدوجہد کے دوران فرنٹ لائن کے ساتھی رہے ، جج بننے کے بعد کبھی ملاقات ہوئی نہ سامنا ،میرے نزدیک وہ  عدلیہ کے گِنے چنے دیانتدار اور اپ رائٹ لوگوں میں سے ہیں، جسٹس شوکت صدیقی کی جبری برطرفی پر ان کی خاموشی ان کے جاننے والوں کیلئے تعجب کا باعث تھی