بلاتاخیر فیصلوں کیلئے عدلیہ اور حکومت کوئی لائحہ عمل مرتب کریں، سابق وفاقی وزیر
لاہور (آئی این پی)سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں فوری انصاف اور بلاتاخیر فیصلوں کیلئے عدلیہ اور حکومت مل کر کوئی لائحہ عمل مرتب کریں۔مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق نے ایک بیان میں کہا کہ سنگین جرائم کے مجرمان کو قانون کے شکنجے میں لانا ریاستی اداروں کا فرض ہے جبکہ مجرموں کے فئیر اور فوری عدالتی ٹرائل کے ذریعے انھیں سزائیں دینا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔سعد رفیق نے کہا پاکستان میں نظام عدل کے بریک ڈان کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے، انصاف کی فراہمی کیلئے غیر معمولی تاخیر اور رکاوٹیں ہیں مدعی یا متاثرہ فریق کی کوئی شنوائی ہے نہ انہیں کوئی تحفظ حاصل ہے۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ عام آدمی کو انصاف نہیں مل رہا، نتیجتاً قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے ازخود عدالتی کردارسنبھال لیا ہے عدالتی عمل کے بغیر سزائیں معمول بن رہا ہے۔ سعد رفیق کا کہنا تھا یہ سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا، موثر نظام عدل قائم نہ کیا گیا تو بات قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے عدالتی کردار سے بڑھ کر ہر طاقتور کے ہاتھ میں چلی جائیگی، لوگ چوک چوراہوں اور گلیوں، بازاروں میں اپنی عدالتیں لگائیں گے، اس وقت سے بچا جائے۔