سپریم کورٹ کے دو ججوں کا ضمیر جاگ گیا‘ ان کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا، آج جب دم پر پیر آیا تو یہ جج بیان دے رہے ہیں، شاعری کر رہے ہیں
عدلیہ کا کردار پاکستان کی تاریخ میں ہر موڑ پر اتنا بھیانک اور سیاہ رہا ہے‘ شاید ہی کسی ملک میں ایسا ہوا ہو‘ایک گھنٹے میں 52 قانون پاس کرنیوالے ہمیں طعنہ دے رہے ہیں
اسلام آباد(آ ئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر سپریم کورٹ سے مستعفی ہونے والے دو ججز جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور علی شاہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا، آج جب دم پر پیر آیا تو یہ ججز بیان دے رہے ہیں، شاعری کر رہے ہیں۔جمعہ کے روز قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے سوال کیا کہ اس دن ان کی غیرت کہاں تھی جب اس اسمبلی میں آدھی رات کو 52 بِل پاس کیے گئے اور اسمبلی کو تحلیل کیا گیا۔ آج یہ جمہورت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ میں کوئی ایسی بات نہیں کرنا چاہتا جس سے تلخی کا ماحول بنے۔ خواجہ آصف نے کہا اس ایوان کی طاقت یہ ہے کہ یہ سپریم ہے۔ ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا۔ آدھی رات کو 52قوانین پاس کیے تھے، اس وقت ان اراکین اسمبلی کی غیرت کہاں تھی جب اسمبلی کوتوڑا گیا؟۔ یہی لوگ دہشتگردوں کو تحفظ دینے والے بھی بنے ہوئے ہیں۔ یہ پاکستان کے وفادار ہیں یا دہشتگرڈوں کے؟۔ یہ مسئلہ آہستہ آہستہ سیٹل ہوگا اور ہوبھی رہا ہے‘ عدلیہ کا کردار پاکستان کی تاریخ میں ہر موڑ پر اتنا بھیانک اور سیاہ رہا ہے کہ شاید ہی کسی ملک میں ایسا ہوا ہو۔ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر آئین کی تمام معطلیوں پر مہر لگانا اور پھر نواز شریف کو نااہل کرنا، یہ سب اسی عدلیہ نے کیا ہے جو ساتھ والی عمارت میں بیٹھتے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ لیکن آج ان کا ضمیر اسلئے جاگ گیا کہ ان کی سپریم کورٹ پر اجارہ داری پر قدغن لگائی گئی ہے اور پارلیمان نے آئین کی بالادستی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ آدھی رات کو ایک گھنٹے میں 52 قانون پاس کرنے والے ہمیں طعنہ دے رہے ہیں