ملزمہ انمول پنکی، جو کوکین کوئین اور منشیات ڈیلر کے طور پر جانی جاتی ہے، کو 1 مئی کو لاہور سے حراست میں لیا گیا۔
وکیل پیر ہدایت اللہ ایڈووکیٹ کے مطابق، انمول کو غیر قانونی طور پر تحویل میں رکھا گیا ہے اور اس کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے عدالت میں اپنا وکالت نامہ جمع کروا دیا ہے تاکہ انمول کے حقوق کا دفاع کیا جا سکے۔ وکیل کے مطابق، انمول کو لاہور میں حراست میں لیا گیا تھا اور اس کے لاپتا ہونے کے حوالے سے لاہور میں ہی ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ انمول کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں لیا گیا، اور اسے زبردستی اور بغیر قانونی اجازت کے تحویل میں رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ آج انمول کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا، مگر پولیس نے اسے پیش نہیں کیا اور نہ ہی عدالت کو کوئی اطلاع یا رپورٹ فراہم کی گئی ہے۔
وکیل کے مطابق، انمول کی حالت خراب ہے اور اس نے سانس لینے اور کڈنی میں درد کی شکایت کی ہے، جس کی وجہ سے اس کی صحت تشویشناک ہے۔ پولیس اور حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی وضاحت یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، اور وکیل کا کہنا ہے کہ انمول کے حقوق کی حفاظت کے لیے قانونی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ یہ کیس پولیس، عدلیہ اور حقوق انسانی کے اداروں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے، کیونکہ ایک زیرِ حراست فرد کی حالت خراب ہونے اور اس کے لاپتا ہونے کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔