عون بپی نے سینیٹ میں گرفتاری کی تفصیلات بتا دیں، کہاں لے جایا گیا؟

عون بپی نے سینیٹ میں گرفتاری کی تفصیلات بتا دیں، کہاں لے جایا گیا؟

اسلام آباد: پی ٹی آئی کے سینیٹر عون عباس بپی کو پروڈکشن آرڈرز پر عمل کرتے ہوئے ایوان بالا پہنچایا گیا، جہاں انہوں نے چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔

ایوان میں اپنے خطاب کے دوران عون عباس بپی نے کہا کہ سب سے پہلے وہ چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا اور اعجاز چوہدری اور ان کے معاملے پر اسٹینڈ لیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

عون عباس بپی نے اپنی گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ 6 مارچ کو ان کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا اور انہیں کالر سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جایا۔ انہوں نے کہا کہ ان سے موبائل فون بھی مانگا گیا اور ان کے بیٹے کو بھی پکڑ کر لایا گیا، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔

عون عباس بپی نے بتایا کہ انہیں دو گھنٹے تک سفر کے بعد جج کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں جج نے بتایا کہ ان پر 5 ہرن کے شکار کا الزام ہے۔ اس کے بعد جب وہ ایک روزہ ریمانڈ پر تھانے لے گئے تو انہیں یہ معلوم ہوا کہ یہ وہی تھانہ ہے جہاں فواد چوہدری کے خلاف ٹوٹیاں چوری کا مقدمہ درج تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان پر پنجاب میں مہنگائی کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی۔

عون عباس بپی نے مزید کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی اور تمام گرفتار رہنماؤں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وفاداری کا عہد کرتے ہیں۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ اگر ممکن ہو تو اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈرز پر بھی عمل کیا جائے، بصورت دیگر ان کے پروڈکشن آرڈرز منسوخ کیے جائیں۔