یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2 مارچ سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کے آغاز کے بعد لبنان میں بچوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔یونیسیف کے مطابق صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 59 بچے یا تو جاں بحق ہوئے یا زخمی ہوئے، حالانکہ 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ہے۔ادارے نے کہا کہ لبنان کے بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی اور خوفناک واقعات کے براہ راست اثرات برداشت کر رہے ہیں، جبکہ جنوبی لبنان اور سرحدی علاقوں میں ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جاری حملوں کے باعث بچوں کی تعلیم، ذہنی صحت اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔یونیسیف نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور تمام فریق بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام یقینی بنائیں۔ماہرین کے مطابق غزہ جنگ کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی لبنان میں ایک نئے انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔