غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 200 فلسطینی شہید، خونریزی جاری

غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 200 فلسطینی شہید، خونریزی جاری

اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر چکا ہے، جس میں تازہ ترین تین دنوں میں 100 سے زائد فضائی حملے کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں 200 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

 حملوں میں خان یونس، رفح، نصیرات اور جبالیا جیسے علاقوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔غیر ملکی ذرائع کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کے حملوں میں 88 فلسطینی شہید اور 208 زخمی ہوئے ہیں۔ 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 1,09,064 افراد زخمی ہیں۔اس دوران حماس نے اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے لیے 34 یرغمالیوں کی فہرست منظور کی ہے، تاہم حماس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ اسرائیلی فوج کے انخلا اور جنگ بندی پر منحصر ہوگا۔

دوسری طرف، امریکی حکومت نے اسرائیل کو مزید 8 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ اور میزائل فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں لڑاکا طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کے لیے گولہ بارود، توپوں کے گولے، چھوٹے بم اور دھماکہ خیز ہتھیار شامل ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اسلحہ غزہ میں نہتے اور بے گناہ فلسطینیوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔اس فیصلے پر امریکا کی وزارت خارجہ نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی امور خارجہ کی کمیٹیوں کو نوٹیفکیشن بھیجا ہے، جس میں اس اسلحے کی فراہمی کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔