اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی کریملن میں باہمی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ تقریب بھی منعقد کی گئی۔
روسی فضائیہ نے اماراتی صدر کے طیارے کو اعزازی سلامی دی، جس سے ملاقات کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں درج ذیل امور زیر بحث آئے:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال:
اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے پر دونوں رہنماؤں نے دو ریاستی حل کے اصول پر منصفانہ حل کی ضرورت پر زور دیا۔جامع امن کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
اقتصادی اور تجارتی تعاون:
عرب امارات اور روس کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، خلاء اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔اقتصادی معاہدوں سے باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔
بین الاقوامی تعلقات اور ثالثی:
یوکرین اور روس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں امارات کی ثالثی کو سراہا گیا۔یوکرین بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ملاقات میں عالمی امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ دونوں ممالک نے مستقبل میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔