عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا، نمایاں کمی

عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا، نمایاں کمی

عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں سونا مسلسل چوتھے سیشن میں کمی کا شکار رہا اور 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,619 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جو 6 مئی کے بعد کم ترین سطح ہے۔ ہفتہ وار بنیاد پر بھی سونا تقریباً 2 فیصد سستا ہوا ہے جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 4,624 ڈالر پر بند ہوئے۔ڈالر کی قدر میں ایک فیصد سے زائد اضافے نے سونے کی طلب کو مزید متاثر کیا ہے، کیونکہ مضبوط ڈالر کے باعث دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے سونا مہنگا ہو جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں بانڈ ییلڈز میں اضافہ ہوا ہے اور سونے پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ ییلڈ ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہے، جس سے سونا رکھنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔

توانائی مارکیٹ میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے، جہاں برینٹ خام تیل کی قیمتیں 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 106 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں۔ یہ اضافہ مبینہ طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال کے باعث بتایا جا رہا ہے۔فروری کے آخر سے جاری عالمی کشیدگی کے بعد سونے کی قیمتوں میں مجموعی طور پر تقریباً 13 فیصد کمی ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بلند شرح سود اور مضبوط ڈالر کے باعث سونے کی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر کشش کم ہو رہی ہے۔دیگر قیمتی دھاتیں بھی دباؤ کا شکار رہیں، جن میں چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔