عالمی توانائی مارکیٹ میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، برینٹ خام تیل کی قیمت میں 10.67 فیصد کی بڑی کمی دیکھی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت کم ہو کر 98.57 ڈالر فی بیرل رہ گئی ہے۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 11.41 فیصد سستا ہونے کے بعد 90.57 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔مزید برآں، قدرتی گیس کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان برقرار ہے، جہاں 2.76 فیصد کمی کے بعد اس کی قیمت 2.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال، توانائی کی طلب میں سست روی اور خام تیل کی بڑھتی ہوئی سپلائی کی وجہ سے ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہی رجحان جاری رہتا ہے تو اس کے مثبت اثرات مختلف ممالک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی ایک خوش آئند علامت ہے، کیونکہ اس سے مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں ریلیف ملنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ یہ رجحان توانائی کے شعبے میں سستی اور استحکام کا سبب بن سکتا ہے، جس سے عوام اور حکومت دونوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔