مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی وزراء کا دھاوا انسانیت کے ضمیر پر کاری ضرب ہے:وزیراعظم شہباز شریف

مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی وزراء کا دھاوا انسانیت کے ضمیر پر کاری ضرب ہے:وزیراعظم شہباز شریف

ویب ڈیسک: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسرائیلی وزراء کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں دھاوے اور وہاں یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی شدید مذمت کی ہے اور اسے انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر حملہ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بیان:
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا:"اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی نہ صرف ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے عقیدے کی توہین ہے بلکہ یہ بین الاقوامی قانون اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر بھی براہ راست حملہ ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی حکومت کی ایسی منظم اشتعال انگیزیاں امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں اور فلسطین سمیت پورے مشرق وسطیٰ کو مزید عدم استحکام اور تنازعات کے قریب دھکیل رہی ہیں۔

واقعے کی تفصیل:
اسرائیل کے دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے وزراء، صیہونی آبادکاروں اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ میں یہودی دعا کا عوامی انعقاد کیا، جو ایک انتہائی متنازع اقدام ہے اور اسرائیل و اردن کے درمیان اس مقام پر طے شدہ پرانے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی سرکاری وزیر نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کھلے عام یہودی دعا کی ہے۔

بین الاقوامی ردعمل:
سعودی عرب نے بھی اسرائیلی حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں اشتعال انگیز حرکات کی شدید مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدامات خطے میں تنازع کو ہوا دیتے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے وضاحت کی کہ "ٹیمپل ماؤنٹ (مسجد اقصیٰ) پر سٹیٹس کو برقرار رکھنے کی اسرائیل کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔"
پس منظر:
مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے جبکہ یہودیوں کے نزدیک بھی یہ سب سے مقدس جگہ ہے، جہاں ان کے پہلے اور دوسرے ہیکل واقع تھے۔معاہدے کے مطابق یہاں یہودی رسومات کی ادائیگی ممنوع ہے، تاہم حالیہ برسوں میں یہودی آبادکاروں اور ارکان پارلیمان کی جانب سے اس معاہدے کی بارہا خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔اسرائیل نے 1967 میں مشرقی مقبوضہ بیت المقدس پر قبضہ کر کے اسے ضم کر لیا تھا، جسے بین الاقوامی برادری کی بڑی تعداد نے تسلیم نہیں کیا۔
وزیراعظم کا مطالبہ:
شہباز شریف نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق غزہ میں فوری جنگ بندی، جارحیت کے خاتمے اور قابل اعتماد امن عمل پر زور دیا۔