ملک کو مالی معاشی بحران کا سامنا ‘ عوام پر مہنگائی کے بم گر رہے ہیں(بلاول بھٹو)

مشکلات میں اضافہ نظر آرہا ہے کمی نہیں‘ حکومت سے بجٹ مذاکرات پر پیپلزپارٹی کی چار رکنی ٹیم بنادی‘عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے
 ‘28 ویں ترمیم پر ردعمل تب دوں گا جب کوئی بات سامنے آئے گی‘ ایران امریکہ جنگ میں مجھے حکومت نے درخواست نہیں کی لیکن ہم ساتھ تھے:میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد (آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے بجٹ مذاکرات پر پیپلزپارٹی کی چار رکنی ٹیم بنادی ہے اور کہا ہے  ملک کو مالی معاشی بحران کا سامنا ہے‘پاکستان کے عوام پر مہنگائی کے بم گر رہے ہیں ‘پاکستان کے عوام مشکل میں ہیں عوام کو ریلیف دینا ہے ‘وفاق اور صوبوں سے مل کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گیا‘مشکلات میں اضافہ نظر آرہا ہے کمی نہیں ‘آنے والا بجٹ میں مشکلات ہوںگی ‘حکومت کو معاشی مشکلات کو دیکھ کر ریلیف کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ پارٹی پارلیمانی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ این ایف سی کی ٹیکنکل کمیٹی کی گفتگو ہوئی‘آئینی ترمیم سے متعلق پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں کی‘27 ویں ترمیم سے متعلق میں نے خود بات کی‘ انہوں نے  کہا 28 ویں ترمیم پر ردعمل تب دونگا جب کوئی بات سامنے آئے۔  پاکستان کی فارن پالیسی درست سمت میں جارہی ہے،فارن پالیسی پاکستان کے مفاد میں بنائی جاتی ہے۔ ہمارے دوبئی اور سعودیہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ‘انہوںنے کہا کہ کوئی بھی ترمیم ہو، نیشنل معاملات میں ہم حکومت کیساتھ ہوتے ہیں‘ہم سب پاکستانی ایسے معاملات میں ایک ہوجاتے ہیں‘ہم محب وطنی کی وجہ سے ایک ہو جاتے ہیں‘بھارت سے جب جنگ تھی تو مجھے کسی نے نہیں کہا لیکن میں نے کوشش کی کہ اپنے ملک کے دفاع کے لیے اپنے طور پر انٹرنیشنل میڈیا کو انگیج کیا‘جنگ کے بعد وزیر اعظم نے امن کمیٹی کی قیادت کی درخواست کی۔ ایران امریکہ جنگ میں مجھے حکومت نے درخواست نہیں کی لیکن ہم ساتھ تھے۔