دونوں طرف لوگوں کے مسائل ایک جیسے ہیں، روٹی کپڑا اور امکان جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا ہے، عام آدمی کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں:سابق آرمی چیف منوج نروانے
بھارت میں مذاکرات کی باتیں کرنے والی آوازیں مثبت پیش رفت ‘پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ٹریک ٹو یا بیک ڈور رابطوں کا علم نہیں :ترجمان دفترخارجہ
نئی دہلی‘اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی)بھارت کے سابق آرمی چیف منوج نروانے نے بھارتی انتہا پسند جماعت آر ایس ایس رہنما کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت کر دی۔بھارتی میڈیا کیمطابق سابق بھارتی آرمی چیف منوج نروانے نے ایک انٹرویو میں کہا ہے دونوں طرف لوگوں کے مسائل ایک جیسے ہیں، روٹی کپڑا اور امکان جیسے مشترکہ مسائل کا سامنا ہے، عام آدمی کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب عام لوگ رہتے ہیں، جب دونوں اطراف کے عوام کے درمیان دوستی ہو گی تو دونوں ممالک کے درمیان بھی دوستی قائم ہوگی۔اس کے علاوہ بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا نے کہا اب آر ایس ایس پاکستان کے ساتھ بات چیت، اچھے تعلقات، ویزوں، تجارت اور کرکٹ کی وکالت کر رہی ہے۔دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے بھارت میں اب مذاکرات کی باتیں کرنے والی آوازیں مثبت پیش رفت ہیں، ہم ان آوازوں پر بھارتی حکومت کے مثبت ردعمل کے منتظر ہیں، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ٹریک ٹو یا بیک ڈور رابطوں کا علم نہیں،ترجمان نے کہا کہ پاکستان تمام ریاستوں کی خودمختاری اور برابری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے علاقائی امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان امن کیلئے ملکوں کے درمیان مذاکرات اور سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے، نائب وزیر اعظم خطے اور دیگر ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے میں ہیں، پاکستان خطے میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے