گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے موقع پر گورنر ہاؤس سندھ میں یادگارِ شہداء کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن گورنر ہاؤس کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کیونکہ قومیں اپنے محسنوں کو یاد کیے بغیر ترقی نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنا چاہتا تھا مگر بھارت کے تکبر کو ہماری مسلح افواج نے توڑ دیا ہے، اور پاکستان کی افواج نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بھی اب پاک فضائیہ کی کارکردگی کی جانب دیکھ رہا ہے اور پوری دنیا ہماری طرف نظریں جمائے ہوئے ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ مئی میں پاکستان سے کوئی بھی دشمن پنگا نہ لے، جو بھی آیا تھا اسے سخت جواب ملا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر دہشتگردوں کو خبردار کیا کہ کے پی اور بلوچستان میں موجود دہشتگرد اپنے آقا کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ دیکھ لیں اور اپنا اسلحہ چھوڑ دیں کیونکہ مٹھی بھر دہشتگردوں کو پاکستان میں جگہ نہیں دی جائے گی۔کامران ٹیسوری نے بھارت کے ساتھ مسئلہ صرف انتہا پسند مودی کے خلاف ہے، وہ بھارتی عوام اور فوج کے خلاف نہیں۔ انہوں نے بھارت کے حالیہ بزدلانہ حملے اور بھارتی میڈیا کی جعلی خبریں بھی تنقید کا نشانہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کا خواہشمند نہیں بلکہ امن پسند ملک ہے، اور خطے میں تجارت اور امن کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے اور بھارت کے پانی کے یکطرفہ فیصلے بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ علاوہ ازیں فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔گورنر سندھ نے کہا کہ معیشت کا دفاع بھی اسی طرح کرنا ہوگا، اور پاکستان نے آئی ایم ایف سے جان چھڑانے کے لیے سخت محنت شروع کر دی ہے۔ انہوں نے چین، آذربائیجان اور ترکیہ سمیت تمام دوست ممالک کا پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔آخر میں کامران ٹیسوری نے کہا کہ جو بھی صاحب استطاعت ہے وہ ترکیہ ضرور جائے تاکہ وہ وہاں کی ترقی اور حالات کا مشاہدہ کر سکے۔
یہ تقریر قومی دفاع، دہشتگردی کے خاتمے، کشمیر کے حقوق اور پاکستان کی عالمی سفارتی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، اور ساتھ ہی معیشتی استحکام اور بین الاقوامی تعلقات کو بھی سراہتی ہے۔