گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کراچی میں انسداد بدعنوانی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ اقتصادی حالت اور معیشت کے مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی پالیسیوں اور شرائط کے چنگل میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی سطح پر قرضوں کی صورت میں ہاتھ پھیلائے کھڑا ہے اور اس کے پاس 3 بلین یا 3 بلین ڈالرز کا حصول ایک اہم چیلنج بن چکا ہے۔کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت اس حد تک تنزلی کی طرف جا رہی ہے کہ اس کا حجم کم ہو رہا ہے، جبکہ پاکستانی تاجر اور برنس مین بھی ملک سے باہر جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال کو پریشان کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اب اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔گورنر سندھ نے کرپشن کے خلاف ایک مضبوط موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس کو معاشرتی سطح پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں جب سے نیب کے جاوید اکبر ریاض نے اپنی ذمہ داری سنبھالی ہے، تب سے ہر طرف سے اچھے اقدامات اور مثبت تبدیلیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے جاوید اکبر ریاض کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی کاوشوں سے بدعنوانی کی روک تھام میں مدد ملی ہے۔کامران ٹیسوری نے ایک اور دلچسپ بات کی، جس میں انہوں نے کراچی کی آرٹس کونسل کے بارے میں کہا کہ 17 سال سے اس کی قیادت احمد شاہ کر رہے ہیں اور نیب نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آرٹس کونسل میں کچھ غیر معمولی یا کرپٹ سرگرمیاں نہیں ہو رہی ہیں۔آخر میں، گورنر سندھ نے افغانستان کے بارے میں بھی ایک تبصرہ کیا اور کہا کہ آج افغانستان پاکستان کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے، حالانکہ ماضی میں ہم نے افغانستان کو چلنا سکھایا تھا، لیکن اب وہ ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے۔