نئی دہلی : پاک بھارت کشیدگی اور جنگی میدان میں بھارتی شکست کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دوبارہ آغاز پر چیئرلیڈرز اور ڈی جیز کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پس منظر:
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد بی سی سی آئی نے 17 مئی سے آئی پی ایل کے دوبارہ شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔تاہم، غیر ملکی کھلاڑی سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت آنے سے انکار کر چکے ہیں۔سابق بھارتی کرکٹر اور پاکستان مخالف جذبات کے لیے مشہور سنیل گواسکر نے بھی آئی پی ایل میں چیئرلیڈرز اور ڈی جیز کو شامل نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ پہلگام واقعے اور بھارتی جارحیت سے متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بحث:
سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ایک چیئرلیڈر کی وائرل ویڈیو نے بھارت کے سیکیورٹی انتظامات کی قلعی کھول دی ہے، جس کی وجہ سے انہیں نہ بلایا جا رہا ہے، یا پھر بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی شکست کو تسلیم کر لیا ہے۔8 مئی کو پنجاب کنگز اور دہلی کیپٹلز کے درمیان میچ اچانک منسوخ کر دیا گیا تھا، جس کے بعد ایک چیئرلیڈر کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
تازہ صورتحال:
پہلگام واقعے اور بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان نے شدید ردعمل ظاہر کیا، جس میں فوجی چوکیوں، تین رافیل طیاروں، دو لڑاکا طیاروں اور درجنوں ڈرونز کو تباہ کیا گیا۔
اس کے باعث بھارت کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
خلاصہ:
بھارتی کرکٹ بورڈ نے جنگ بندی کے باوجود آئی پی ایل میں چیئرلیڈرز اور ڈی جیز پر پابندی لگا کر ایک نئی حکمت عملی اپنائی ہے، جبکہ غیر ملکی کرکٹرز کی سیکیورٹی خدشات اور پاکستان کی جانب سے سخت جواب نے بھارتی کھیلوں اور سماجی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔