بیجنگ: چین نے ایک بار پھر بھارت کے زیرِ قبضہ علاقے اروناچل پردیش کو اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے ’’زنگنان‘‘ کا نام دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ ان علاقوں کو چینی نام دینا چین کا مکمل اندرونی معاملہ ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’زنگنان‘‘ تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی اعتبار سے چین کا حصہ ہے، اور یہ اقدام چین کے خودمختار انتظامی دائرہ اختیار کے تحت کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس خطے کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو اجاگر کرنا ہے۔یہ نکتہ اہم ہے کہ بھارت اروناچل پردیش کو اپنی شمال مشرقی ریاست قرار دیتا ہے، جبکہ چین اسے جنوبی تبت کا حصہ تصور کرتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس تنازع پر کئی دہائیوں سے کشیدگی جاری ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف حالیہ بھارتی جارحیت اور خطے میں جارحانہ پالیسیوں کے بعد چین کی طرف سے یہ واضح سفارتی مؤقف بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے تقریباً ہر ہمسایہ ملک کے ساتھ محاذ آرائی پیدا کر کے خطے میں اپنے امن مخالف عزائم کو بے نقاب کر دیا ہے۔یہ سفارتی تنازعہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے متعدد واقعات ماضی قریب میں پیش آ چکے ہیں، جن میں دونوں جانب جانی نقصان بھی ہوا ہے۔