امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 900 ارب ڈالر کے دفاعی پالیسی بل پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ بل باقاعدہ طور پر قانون بن گیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اس قانون کی منظوری سے امریکی دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کا مقصد فوجی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایسے قانون پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکی فوجیوں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ دفاعی بل امریکا کے "پیس تھرو اسٹرینتھ" (طاقت کے ذریعے امن) کے ایجنڈے کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
بل میں جدید فضائی اور میزائل دفاعی نظام "گولڈن ڈوم" کے لیے بھی خطیر فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جسے امریکا کے دفاعی ڈھانچے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی قانون سازوں کے مطابق نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (NDAA) آئندہ سال کے لیے امریکا کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت دفاعی تیاریوں، فوجی اخراجات اور عالمی سکیورٹی پالیسیوں کو مزید تقویت دی جائے گی۔