سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہو سکتا عالمی بینک معطل رہے گا بھارتی وزارت خارجہ سنگینی کا احساس ہے برطانوی وزیرخارجہ

 معاہدے کو فریقین کی مرضی سے ختم یا اس میں ترمیم  کی جا سکتی ہے ‘معاہدے میں عالمی بینک کا کردار بنیادی طور پر سہولت کار کا ہے، اگر فریقین میں اختلاف ہو تو ہمارا کام فیصلہ کرنا نہیں :صدر عالمی بینک اجے بنگا کا انٹرویو 
 تنازع کشمیر پر بھارت  کا موقف پہلے کی طرح واضح ہے ‘ یہ مسئلہ مکمل طور پر دو طرفہ ہے، اسے صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان ہی حل ہونا چاہیے‘ امریکی حکام سے تجارت پر کوئی بات نہیں ہوئی:ترجمان  بھارتی وزارت خارجہ 
نیویارک‘نئی دہلی‘لندن(آئی این پی)عالمی بینک کے صدر نے کہا ہے  سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو دونوں فریقین کی مرضی سے ختم یا اس میں ترمیم تو کی جا سکتی ہے مگر یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔ٹیلی ویژن چینل سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر عالمی بینک اجے بنگا نے میزبان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے ( انڈس واٹر ٹریٹی ) کی معطلی کے بھارتی اقدام کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کیا گیا، بلکہ تکنیکی طور پر بھارتی حکومت نے اسے  التوا میں قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں معطلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، اس معاہدے کو ختم یا تبدیل تو کیا جاسکتا مگر اس کے لیے دونوں ممالک کا راضی ہونا ضروری ہے۔اجے بنگا نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار بنیادی طور پر سہولت کار کا ہے، اگر فریقین میں اختلاف ہو تو ہمارا کام فیصلہ کرنا نہیں ہے، بلکہ ان کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے ایک غیر جانبدار ماہر یا ثالثی عدالت تلاش کرنے کے لیے ایک عمل سے گزرنا ہے ۔دریں اثناء بھارت نے  پھر ہٹ دھرمی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے کہا ہے  جموں کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے اور بھارت کی جموں کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جب کہ  سندھ طاس بھی معاہدہ معطل رہے گا۔   ترجمان بھارتی وزارت خارجہ    رندھیر جیسوال  نے   نیوز بریفنگ کے دوران دعوی کیا  کہ پاکستان نے 10 مئی کو 2 مرتبہ بھارت سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔انہوں نے ٹرمپ کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 7  مئی کے حملے کے بعد 
10مئی کی فوجی کارروائی اور جنگ بندی معاہدے پر پہنچنے تک امریکی حکام سے تجارت پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ جموں کشمیر سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے، بھارت کی جموں کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،   اسے دو طرفہ طور پر ہی طے کیا جائے گا۔  انہوں نے مزید کہا تنازع کشمیر پر بھارت  کا موقف پہلے کی طرح واضح ہے اور یہ مسئلہ مکمل طور پر دو طرفہ ہے، اسے صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان ہی حل ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں برطانوی پارلیمان میں سندھ طاس معاہدے کی گونج سنائی دینے لگی۔برطانوی رکن پارلیمنٹ جیمز فر تھ نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے  کہ سندھ طاس معاملہ بھارت اور پاکستان کے مابین مزید کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے، پانی تک رسائی کے مسئلے کو سیاسی ہتھیار نہ بنایا جائے، انڈس واٹر ٹریٹی جیسے معاہدوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، برطانوی حکومت کی طرف سے جنگ بندی کے لئے کی گئی کوششوں کو سراہتے ہیں۔برطانوی وزیر خارجہ نے کہا  حکومت کو سندھ طاس معاہدے کی سنگینی کا مکمل ادراک ہے، برطانیہ میں رہنے والے تین ملین سے زائد افراد کا تعلق بھارت اور پاکستان سے ہے۔برطانوی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ بحران کے آغاز سے اب تک بھارتی اور پاکستانی ہم منصبوں سے چار مرتبہ گفتگو کی ہے۔