سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی اعلان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں: وزارت آبی وسائل

موزوں وقت پرجواب دیا جائیگا، تھرڈ پارٹی کے پاس جانے کے آپشن سے بھارت کا کیس کمزور ہوتا ہے،ذرائع
اسلا م آباد(آئی این پی ) وزارت آبی وسائل کے ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کو موزوں وقت پر جواب دے گا۔ ذرائع وزارت آبی وسائل کے مطابق سندھ طاس معاہدے پر بھارت کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے اعلان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے جب بھی عملی اقدام کیا جائے گا پاکستان اپنا ردعمل دے گا، بھارت فوری طور پر دریا کے بہا میں تبدیلی نہیں کر سکتا نہ ہی پانی روک سکتا ہے۔ذرائع وزارت آبی وسائل کے مطابق سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی ایک نہ چلی نہ ہی چلنے والی ہے، بھارت آخری ہوائی اعلان کر چکا سندھ طاس معاہدے پر فرق نہیں پڑا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت پانچ مرتبہ سندھ طاس معاہدے میں مرضی کی ترامیم کی کوششیں کر چکا، بھارت کی کوشش مفربی دریائوں پرمرضی کے ڈیزائن والے ڈیم بنانا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارت پاکستان کی مشاورت سے ڈیمز ڈیزائنر کو معاہدے کا حصہ بنانے کی کوشش کرچکا، بھارت 20جنوری 2023سے اب تک پانچ مرتبہ نظر ثانی کیلئے خط لکھ چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت پانی کا بہائو نہیں روک سکتا، ڈیزائن کی خلاف ورزی پر پاکستان عالمی فورمز پر کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے، بھارت نے معاہدے کے آرٹیکل نو میں ترامیم کیلئے پاکستان سے رابطہ کیا، آرٹیکل 9میں پاکستان کو تھرڈ فورم پر جانے کا اختیار ہے۔ ذرائع وزارت آبی وسائل نے کہا کہ پاکستان کشن گنگا ڈیم اور رتلے ڈیم کے ڈیزائن کو عالمی فورمز پر چیلنج کر چکا، تھرڈ پارٹی کے پاس جانے کے آپشن سے بھارت کا کیس کمزور ہوتا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان بھارت کی معاہدے میں ترامیم کی پیش کش کو ٹھکرا چکا ہے، مغربی دریائوں سے پاکستان کو سالانہ 122 ملین ایکٹر فٹ پانی ملتا ہے۔