اسلام آباد:چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس حملہ اے پی ایس کی طرح بڑا سانحہ ہو سکتا تھا، لیکن سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔
عدالت میں پیشی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے 4 دسمبر کو مذاکرات کے لیے کمیٹی بنائی اور 23 دسمبر کو پہلی میٹنگ ہوئی۔ اس کے بعد 2 جنوری کو دوسری اور 16 جنوری کو تیسری میٹنگ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے سامنے دو مطالبات رکھے تھے، جنہیں حکومت نے تحریری طور پر مانگا تو ہم نے انہیں تحریری طور پر پیش کر دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا تھا کہ اگر حکومت کمیشن بنانے کے لیے آمادگی ظاہر کرے تو ہم ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ اسپیکر کو یہ معلوم ہے کہ یہ موقع ہماری طرف سے ضائع نہیں ہوا، بلکہ حکومت نے اس موقع کو ضائع کیا۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے 6 ماہ سے کسی کو نہیں ملایا گیا اور ان کے بچوں سے بھی باقاعدہ رابطہ نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ یہ عدالت کے احکامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف میں جمہوریت ہے اور ہر شخص کو اپنی رائے کے اظہار کا حق ہے۔ پارٹی کے اندر جو فیصلے کیے جاتے ہیں، وہ سب کے اتفاق سے تسلیم کیے جاتے ہیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس بہت اچھی تھی اور سکیورٹی فورسز نے بہت اچھا کردار ادا کیا، جس سے ایک بہت بڑے سانحے سے بچا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکیورٹی فورسز بروقت کارروائی نہ کرتیں تو یہ ایک اور آرمی اسکول جیسا سانحہ بن سکتا تھا۔