ویب ڈیسک: اداکارہ نادیہ حسین کے ایف آئی اے پر مبینہ رشوت کے الزامات؛ ایف آئی اے نے قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے چھاپہ مارا، موبائل فون تحویل میں لے لیا
ایف آئی اے حکام نے اداکارہ و معروف ماڈل نادیہ حسین کی جانب سے ایف آئی اے پر رشوت کے الزام کے معاملے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ان کے گھر چھاپہ مارا اور ان کا موبائل فون تحویل میں لے لیا۔ ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ موبائل کا فرانزک تجزیہ کیا جائے گا، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا کہ نادیہ حسین کو یہ واضح کر دیا گیا تھا کہ رشوت طلب کرنے والا فرد ایف آئی اے کا کوئی اہلکار نہیں بلکہ ایک جعل ساز ہے۔ جعل ساز نے ایف آئی اے آفیسر کی تصویر لگا کر نادیہ حسین کو کال کی تھی اور رشوت کی درخواست کی تھی۔حکام کے مطابق نادیہ حسین کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ جعل ساز کے خلاف سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کراچی میں شکایت درج کرائیں، مگر انھوں نے اس کے بجائے سوشل میڈیا پر اس معاملے کا ذکر کیا اور ایف آئی اے پر الزام لگایا۔ ایف آئی اے کے مطابق جعل ساز کا تعلق وہاڑی سے ہے اور اس کی گرفتاری کی کارروائی جاری ہے۔
ایف آئی اے حکام نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر بے بنیاد الزامات لگانا قانوناً جرم ہے اور اس پر پیکا ایکٹ کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی نے نادیہ حسین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ بغیر ثبوت اور شواہد کے کسی بھی فرد کو بے بنیاد پروپیگنڈہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ الزامات ایک منظم ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں، جو ایک سنگین جرم ہے۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب بینک الفلاح سیکیورٹیز میں 540 ملین روپے کی خرد برد کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ایف آئی اے نے 8 مارچ 2025 کو سابق سی ای او عاطف محمد خان کو گرفتار کیا تھا، جو نادیہ حسین کے شوہر ہیں اور مالیاتی دھوکہ دہی میں ملوث پائے گئے تھے۔