ممبئی: سلمان خان کے مشہور “کالا ہرن” شکار کیس پر مبنی فلم ’کالا ہرن‘ ریلیز سے قبل ہی تنازع کا شکار ہو گئی ہے، جس کے بعد اس کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم کی کاسٹ میں شامل سینئر اداکار گووند نامدیو نے منصوبے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے فلم سازوں پر گمراہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔اداکار کا کہنا ہے کہ جب انہیں اس پروجیکٹ کے لیے سائن کیا گیا تو انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ ایک مختلف عنوان “سنبل” کے تحت کام کر رہے ہیں، تاہم بعد ازاں معلوم ہوا کہ فلم کا نام تبدیل کر کے ’کالا ہرن‘ رکھا گیا ہے اور یہ کہانی مبینہ طور پر سلمان خان کے مشہور شکار کیس سے منسوب ہے۔گووند نامدیو کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ فلم میں صرف عدالتی کارروائی اور ریکارڈ پر موجود حقائق کو دکھایا جائے گا، جبکہ کسی اضافی یا تخیلاتی مواد کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ تاہم بعد میں انہیں اس بات پر تشویش ہوئی کہ کہانی کو مختلف انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔اداکار نے مزید کہا کہ اگر انہیں پہلے سے معلوم ہوتا کہ فلم کسی معروف شخصیت اور حساس کیس کے تناظر میں بنائی جا رہی ہے تو وہ کبھی اس کا حصہ نہ بنتے، کیونکہ ان کے مطابق سلمان خان ان کے قریبی دوست ہیں اور وہ کسی بھی ایسے پروجیکٹ میں شامل نہیں ہونا چاہتے جو ان کی شخصیت کو متنازع انداز میں پیش کرے۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے فلم کے پروڈیوسرز کو قانونی نوٹس بھی جاری کیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فلم مبینہ طور پر شکار کیس کے پس منظر کو بنیاد بنا کر بنائی جا رہی ہے اور اس میں مرکزی کردار کی شخصیت کو غیر مناسب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔گووند نامدیو کی علیحدگی اور قانونی تنازع کے بعد فلم کی تیاری اور ریلیز سے متعلق غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جبکہ بالی ووڈ حلقوں میں اس معاملے پر بحث جاری ہے۔