شوبز کی دنیا میں کئی اداکاراؤں کو مذہب کی خاطر فلمی دنیا کو خیرباد کہتے دیکھا گیا، مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ بالی ووڈ کے ایک معروف اداکار نے بھی دین کی راہ میں شوبز کو چھوڑ دیا تھا اور اب وہ مولانا بن چکے ہیں؟
یہاں بات ہو رہی ہے عارف خان کی، جنہوں نے 1991 میں فلم "پھول اور کانٹے" سے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا۔ اس فلم میں نہ صرف اجے دیوگن نے ڈیبیو کیا تھا بلکہ وِلن کا کردار ادا کرنے والے عارف خان نے بھی پہلی بار فلمی دنیا میں انٹری دی تھی۔
عارف خان کا شوبز چھوڑنے کا فیصلہ
حال ہی میں عارف خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس کا عنوان تھا "جناب عارف خان صاحب (سابق بالی ووڈ اداکار)"۔ اس ویڈیو میں انہوں نے اپنی زندگی کے اہم فیصلے پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کس طرح وہ روحانی سفر کی طرف مائل ہوئے اور دین کو اپنانے میں کامیاب رہے۔
ویڈیو میں عارف خان نے کہا:
"آپ نے 1991 کی فلم ‘پھول اور کانٹے’ دیکھی ہوگی، جو بھارت میں بےحد مقبول ہوئی تھی۔ یہ میری اور اجے دیوگن کی پہلی فلم تھی۔ اُس وقت میری عمر 23 سال تھی اور میں جوانی کے جذبے سے بھرپور تھا۔ اس کے بعد میں نے 14 سے 15 مزید فلموں اور ٹی وی سیریلز میں کام کیا۔ میرے پاس عزت، دولت اور شہرت سب کچھ تھا، لیکن بعد میں اللہ نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا، میری زندگی بدلی، اور آج میں یہاں ہوں۔"
روحانی تبدیلی اور دین کی راہ
عارف خان نے مزید کہا کہ شوبز کی چمک دمک کے باوجود انہیں احساس ہوا کہ ان کی زندگی کا اصل مقصد کچھ اور ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت، شہرت اور کامیابی کے باوجود دل کو سکون نہیں مل رہا تھا، اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے دین کی طرف رجوع کرنے کا فیصلہ کیا۔ان کے مطابق، یہ آسان سفر نہیں تھا لیکن اللہ نے انہیں راستہ دکھایا اور وہ دین کی خدمت میں لگ گئے۔ آج وہ ایک مولانا کے طور پر دین کی تبلیغ میں مصروف ہیں اور اپنی زندگی میں حقیقی خوشی محسوس کرتے ہیں۔
بالی ووڈ کے دیگر اداکار بھی شوبز چھوڑ چکے ہیں
یہ پہلی بار نہیں کہ کسی اداکار نے مذہب کی خاطر فلمی دنیا کو خیرباد کہا ہو۔ اس سے پہلے کئی مشہور اداکارائیں زائرہ وسیم اور سناء خان بھی شوبز چھوڑ کر دین کی راہ اختیار کر چکی ہیں۔عارف خان کا یہ فیصلہ ان کے چاہنے والوں کے لیے حیران کن تھا، لیکن ان کے مطابق، انہوں نے جو بھی قدم اٹھایا، وہ دل کی تسکین اور روحانی خوشی کے لیے تھا۔