سی سی ڈی کو کھلی چھوٹ ، مجرموں سے زیادہ معصوم لوگ نشانہ بن رہے ہیں، مونس الہی

لاہور(آئی این پی ) پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر مونس الہی نے پنجاب کے ضلع چکوال میں پیش آنے والے اندوہ ناک سانحے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعلی مریم نواز کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شدید تنقید کی ہے۔ حج کی سعادت حاصل کر کے وطن واپس لوٹنے والے آسٹریلیا کے شہری پاکستانی خاندان کی گاڑی پر چکوال میں ہونے والی مبینہ فائرنگ اور 9 سالہ معصوم بچی ہانیہ احمد کی شہادت پر سوشل میڈیا پر جاری یک مذمتی بیان میں مونس الہی نے پنجاب پولیس اور اس کے مخصوص ونگ سی سی ڈی کی کارکردگی اور طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھا ئے ۔مونس الہی نے پنجاب کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور امن و امان کی گرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں اس وقت بے گناہ شہریوں کا کھلا قتلِ عام جاری ہے، حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، پولیس کی تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو دبانے پر لگی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے پیشہ ورانہ تربیت کا فقدان ہے اور ایسے دردناک واقعات جنم لے رہے ہیں۔سابق وفاقی وزیر نے محکمے کو حاصل مبینہ بے لگام اختیارات پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ سی سی ڈی کو حاصل کھلی چھوٹ کا خمیازہ اب عوام بھگت رہی ہے، اس فورس کو قانون کے دائرے سے باہر نکلنے کی آزادی دی گئی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ اب اصل مجرموں کو پکڑنے کے بجائے سڑکوں پر چلتے معصوم اور قانون پسند لوگ ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔مونس الہی نے دو دن قبل حج کر کے پاکستان پہنچنے والے اوورسیز خاندان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چکوال میں ایک عام کار پر بغیر سوچے سمجھے کی جانے والی اندھا دھند فائرنگ، جس کے نتیجے میں ایک معصوم بچی جاں بحق ہو گئی، اس محکمے کی کھلی چھوٹ کی تازہ ترین مثال ہے، سی سی ڈی کی اس کارروائی کا نشانہ بننے والے اوورسیز پاکستانی خاندان کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔