اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ رواں سال معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال ثابت ہوگا، جبکہ پاکستان کی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری سے متعلق اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں جاری اصلاحات، ٹیکس وصولیوں اور کاروباری ماحول میں بہتری کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹائلز اور فرٹیلائزر کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تنصیب مکمل ہو چکی ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور بیوریجز کی صنعتوں میں بھی یہ نظام تیزی سے نصب کیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے شوگر انڈسٹری سے 42 ارب روپے، سیمنٹ انڈسٹری سے 38 ارب روپے اور بیوریجز انڈسٹری سے 15 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے انہیں زیادہ پیداوار، سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون کو فروغ دیا جائے اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایف بی آر کے سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کریں تاکہ کاروباری برادری سے براہِ راست ملاقات کر کے ان کے مسائل فوری طور پر حل کیے جا سکیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے گی، جبکہ حکومت کاروبار میں آسانی پیدا کرنے اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور سہل بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔