’میں مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا ہوں‘، امریکا میں دہشت گرد کا مسلمان شخص پر خوفناک چاقو حملہ

’میں مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا ہوں‘، امریکا میں دہشت گرد کا مسلمان شخص پر خوفناک چاقو حملہ

امریکا کی ریاست یوٹا میں ایک مسلمان شخص پر مبینہ مذہبی نفرت کی بنیاد پر ہونے والے حملے نے تشویش کی نئی لہر دوڑا دی۔

 پولیس کے مطابق حملہ آور نے ایک مسلمان شہری پر متعدد بار چاقو سے وار کیا اور بعد میں دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے مبینہ طور پر صرف اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ پیر کے روز ریاست یوٹا کے شہر ویسٹ ویلی سٹی کے ویلی فیئر مال میں پیش آیا، جہاں متاثرہ شخص ایک کیوسک پر کام کر رہا تھا۔پولیس کے مطابق 48 سالہ مشتبہ ملزم پیٹر مائیکل لارسن پہلے متاثرہ شخص کے پاس گیا، اس کا نام اور مذہب پوچھا اور پانی کی بوتل مانگی۔ جب متاثرہ شخص پانی لینے کے لیے مڑا تو ملزم نے مبینہ طور پر اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔حکام کے مطابق متاثرہ شخص کے جسم پر متعدد گہرے زخم آئے اور اسے تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی کئی سرجریاں کی جا رہی ہیں۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اسے تقریباً 15 بار چاقو مارا گیا۔واقعے کے بعد وہاں موجود افراد نے حملہ آور کو قابو میں رکھا، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر اسے گرفتار کر لیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دورانِ تفتیش بیان دیا کہ وہ "مسلمانوں کو قتل کرنا چاہتا ہے" اور اس نے متاثرہ شخص کو مبینہ طور پر اس کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔ ان الزامات کا فیصلہ عدالت میں ہوگا۔ملزم کے خلاف اقدامِ قتل اور خطرناک ہتھیار کے استعمال سمیت متعدد الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی مسلم تنظیموں، جن میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) بھی شامل ہے، نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کا سنگین واقعہ قرار دیا ہے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکا میں مذہبی نفرت پر مبنی جرائم کے واقعات پر مسلسل تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ حالیہ برسوں میں اسلاموفوبیا سے متعلق خدشات بھی بڑھتے رہے ہیں۔