لاہور(نیٹ نیوز)یہ سائز آج کے دور میں بھی غیرمعمولی شمار ہوتا ہے، اس کے برعکس آس پاس کے رومن قلعوں سے ملنے والے اوسط جوتے سائز 8 کے قریب ہوتے تھے۔کھدائی کی سربراہ ماہرِ آثارِ قدیمہ ریچل فریم کہتی ہیں، ’شروع میں ہمیں لگا شاید یہ سردیوں کے جوتے ہیں یا اندر اضافی کپڑا بھرا گیا ہو، لیکن جب مختلف طرز کے بڑے جوتے مسلسل نکلتے گئے تو یقین ہوگیا کہ یہ واقعی بڑے پاؤں والے افراد کے جوتے ہیں۔‘مگنا فورٹ میں مختلف وقتوں میں مختلف رومن فوجی یونٹیں اور ان کے اہل خانہ رہائش پذیر رہے، اکثر فوجی احکامات کی تعمیل میں دوسری سرزمینوں کو روانہ ہوجاتے اور پیچھے اپنے جوتے، کپڑے اور دیگر اشیاء خندقوں میں چھوڑ جاتے، جو وقت کے ساتھ مٹی میں دب گئیں۔اس قلعے میں ملنے والے جوتوں کے انداز اور ساخت میں ویندولانڈا قلعے سے ملنے والے جوتوں سے مماثلت پائی گئی جو ہیڈریئن وال کے سب سے مشہور اور مکمل کھدائی شدہ رومن قلعوں میں شامل ہے۔