ویسٹ انڈیز 27 رنز پر آل آؤٹ، کپتان روسٹن چیز کا بیٹنگ کو "شرمناک" قرار

ویسٹ انڈیز 27 رنز پر آل آؤٹ، کپتان روسٹن چیز کا بیٹنگ کو

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ تاریخ کی بدترین شکستوں میں سے ایک کا سامنا اُس وقت کرنا پڑا جب وہ آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں صرف 27 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا دوسرا کم ترین اسکور ہے اور ویسٹ انڈیز کا اب تک کا بدترین مجموعہ۔یہ شرمناک اننگز کنگسٹن، جمیکا کے سبینا پارک اسٹیڈیم میں کھیلی گئی، جہاں آسٹریلیا نے ویسٹ انڈیز کو 204 رنز کا ہدف دیا تھا، جو بظاہر حاصل کیا جا سکتا تھا۔ تاہم صرف 14.3 اوورز میں پوری ویسٹ انڈین ٹیم پویلین واپس لوٹ گئی۔

بیٹنگ لائن کی مکمل ناکامی:
ابتدائی 6 بیٹرز صرف 6 رنز بنا سکے۔7 کھلاڑی بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔کسی بھی بلے باز نے ڈبل فیگر (10 یا اس سے زائد رنز) میں اسکور نہ کیا۔یہ ویسٹ انڈیز کا سابقہ کم ترین اسکور 47 رنز تھا، جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
کپتان روسٹن چیز کا شدید ردعمل:
میچ کے بعد ویسٹ انڈیز کے کپتان روسٹن چیز نے ٹیم کی کارکردگی کو "دل توڑ دینے والا" اور "شرمناک" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:"ہم بار بار ایسی پوزیشن میں آتے ہیں جہاں جیت ممکن ہو، لیکن پھر آخری اننگز میں مکمل طور پر بکھر جاتے ہیں۔ یہ ناقابل قبول ہے۔"انہوں نے پچ کو اس خراب کارکردگی کا ذمہ دار ٹھہرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا:"وکٹ اچھی تھی۔ گیند میں کوئی غیر متوقع باؤنس یا رولنگ نہیں ہو رہی تھی۔ یہ صرف ہماری تکنیکی اور ذہنی کمزوری تھی۔"
سیریز میں بیٹنگ کا خوفناک ریکارڈ:
ویسٹ انڈیز نے سیریز کے دوران درج ذیل اسکورز بنائے:

190، 141، 253، 143، 143 اور 27
پورے سیریز میں صرف برینڈن کنگ ہی 75 رنز کی ایک نصف سنچری اننگز کھیل سکے۔ ان کے سوا کوئی بھی بلے باز 20 کا اوسط نہ رکھ سکا، جبکہ آسٹریلیا کے چار کھلاڑیوں کا اوسط 30 سے زائد رہا۔

مستقبل کی فکر:
روسٹن چیز نے کہا کہ اگلا ٹیسٹ اکتوبر میں بھارت کے خلاف ہے، جہاں کنڈیشنز مزید مشکل ہوں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو خصوصی بیٹنگ کیمپ کی ضرورت ہے، خاص طور پر اسپنرز کے خلاف کھیلنے کی مشق کے لیے۔"اگر ہم نے اپنی بیٹنگ کو بہتر نہ کیا تو بھارت میں بھی ہماری یہی حالت ہو گی۔ ہمیں اب بہت سخت محنت کی ضرورت ہے۔"
ماہرین کی رائے:
تجزیہ کاروں نے اس اننگز کو جدید کرکٹ میں "ناقابلِ قبول" قرار دیا ہے اور ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ شائقین کرکٹ بھی سوشل میڈیا پر ٹیم کی کارکردگی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔