ایران کا دو ٹوک مؤقف: اگر امریکا نے یورینیم افزودگی بند کرنے پر زور دیا تو جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے

ایران کا دو ٹوک مؤقف: اگر امریکا نے یورینیم افزودگی بند کرنے پر زور دیا تو جوہری مذاکرات نہیں ہوں گے

ویب ڈیسک: ایران نے واضح الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے جوہری مذاکرات کی شرط یہ رکھی گئی کہ ایران یورینیم افزودگی (Uranium Enrichment) بند کرے، تو ایسے مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاملے پر دوبارہ مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔

ایران کا مؤقف
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی ولایتی نے سرکاری خبر رساں ادارے IRNA سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:"اگر مذاکرات کی شرط یہ ہو کہ ایران یورینیم افزودگی بند کرے، تو ایسے مذاکرات نہیں ہوں گے۔"انہوں نے مزید کہا کہ ایران جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا، اور یہ ایران کا قومی اور قانونی حق ہے۔

ماضی کے مذاکرات اور موجودہ صورتحال
ایران اور امریکا کے درمیان رواں سال اپریل سے اب تک 5 بار مذاکرات ہو چکے ہیں، مگر کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔2018 میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے (JCPOA) سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔حالیہ مہینوں میں اسرائیل کے حملوں کے باعث مذاکراتی عمل متاثر ہوا، تاہم جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک نے بات چیت کی بحالی کا عندیہ دیا۔
ملاقات کی صورتحال
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ:"فی الحال امریکا کے ساتھ کسی ملاقات کی تاریخ، وقت یا مقام طے نہیں ہوا۔"یہ ملاقات ممکنہ طور پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان ہونی تھی، مگر اس کی کوئی حتمی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

تجزیہ
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ تہران کسی بھی دباؤ میں آ کر جوہری سرگرمیاں ترک کرنے کے لیے تیار نہیں، اور اگر امریکا اس شرط پر اصرار کرتا رہا تو بات چیت کا دروازہ بند ہو سکتا ہے۔