امریکا کی ایران کو نئی جوہری پیشکش: یورینیم افزودگی محدود، پاور ری ایکٹرز کی اجازت

امریکا کی ایران کو نئی جوہری پیشکش: یورینیم افزودگی محدود، پاور ری ایکٹرز کی اجازت

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام پر ایک نئی عبوری تجویز پر کام شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور ایک جامع معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کو "سفارتی پُل" (Diplomatic Bridge) کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کو وقتی طور پر کم سطح کی یورینیم افزودگی کی اجازت دینا ہے، تاکہ مذاکرات کی بحالی کی فضا پیدا کی جا سکے۔

مجوزہ تجاویز کی تفصیلات:
کم سطح کی افزودگی کی اجازت: ایران کو کم سطح (3.67 فیصد تک) پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت دی جائے گی، جو کہ صرف پرامن مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، جیسا کہ بجلی پیدا کرنے والے نیوکلیئر ری ایکٹرز میں۔امریکی تعاون: اس پیشکش کے تحت امریکا ایران میں سول نیوکلیئر پروگرام کو فروغ دینے کے لیے پاور ری ایکٹرز کی تنصیب میں تکنیکی مدد فراہم کرے گا، تاکہ ایران کو پرامن ایٹمی توانائی کے حصول میں عملی فائدہ ہو۔مشروط بندش: جیسے ہی ایران ان پرامن سہولیات سے استفادہ حاصل کرنا شروع کرے گا، اسے یورینیم کی ہر قسم کی افزودگی بند کرنا ہوگی، بشمول کسی بھی ممکنہ فوجی مقاصد کے لیے کی جانے والی سرگرمیاں۔ایران کو پیشکش: یہ خفیہ تجویز گزشتہ ہفتے ایران کو باضابطہ طور پر پیش کی گئی ہے، تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ایران اگلے چند دنوں میں اس تجویز پر باضابطہ موقف دے گا۔
ایرانی ردِ عمل:
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اس تناظر میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ:"ایران کسی بھی دباؤ، غیرمنصفانہ مطالبے یا دھونس کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ ہم اپنے جوہری حقوق کا بھرپور دفاع کرتے رہیں گے۔"ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور ایران بین الاقوامی قوانین کے اندر رہتے ہوئے اپنی پالیسی طے کرے گا۔

پس منظر:
یہ تجویز ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کئی برسوں سے تعطل کا شکار ہیں۔ 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جوہری معاہدہ (JCPOA) یکطرفہ طور پر ختم کر دیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوا۔موجودہ تجویز کو سفارتی ماہرین "سیاسی تناؤ میں نرمی" کی کوشش قرار دے رہے ہیں، لیکن کامیابی کا دارومدار ایران کے جواب اور بین الاقوامی ضمانتوں پر ہے۔