اضافی سٹاک کے نام پر چینی برآمد کرنے کی اجازت لی گئی ‘مقامی سطح پر قیمتیں بڑھا دی گئیں:میڈیا رپورٹ

لاہور( آئی این پی)ملک میں چینی کی قیمتیں بڑھنے کی اصل وجہ سامنے آ گئی ،اضافی سٹاک کے نام پر چینی برآمد کرنے کی اجازت لی گئی اور مقامی سطح پر قیمتیں بڑھا دی گئی،شوگر ملز مالکان حکومت سے چینی کی برآمد کے نام پر سبسڈی بھی لیتے رہے مگر مقامی سطح پر قیمتیں پھر بھی آئوٹ آف کنٹرول رہیں۔ شوگر ملز مالکان پیداواری لاگت میں ہیر پھیر کرکے بھی اربوں روپے بٹورتے رہے، ماضی میں برآمد کی گئی 7لاکھ میٹرک ٹن سے زائد چینی کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق شوگر ملز مالکان نے اضافی اسٹاک کے نام پر چینی برآمد کرنے کی اجازت لی،چینی برآمد کرکے مقامی سطح پر قیمتیں بڑھا دیں،7 ماہ میں 60 روپے فی کلو اضافہ ہو چکا ہے ، مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں بڑھا کر اربوں روپے کی دیہاڑیاں لگائی جارہی ہیں۔دستاویزکے مطابق 2020 تک حکومت سے چینی برآمد کرنے کیلئے 4ارب 12کروڑ کی سبسڈی بھی لی، 26شوگرملز نے 4لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کیلئے حکومت سے سبسڈی لی، 2015 سے 2020 تک چینی برآمد کرنے کے نام پر بھی بڑے فراڈ کا انکشاف ہواہے ۔