رمضان سے پہلے مہنگائی کا حملہ
معیاری چاول 400 سے 620 ،درجہ اول کا گھی اور کوکنگ آئل 590 سے 610 روپے کلو فروخت ہو رہا ، ایرانی کھجور 400 سے 600 سعودی کھجور کی قیمت 3000 روپے کلو تک جا پہنچی ، مرغی مہنگی، سرکاری قیمت آسمان کو چھونے لگے
لاہور( کرائم رپورٹر)ملک بھر میں رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھنے لگا ہے، تاہم شہری بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے منتظر ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں آٹے کے سوا تقریباً تمام اشیاء کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق معیاری چاول 400 سے 620 روپے فی کلو، جبکہ درجہ اول کا گھی اور کوکنگ آئل 590 سے 610 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ درجہ دوم کا گھی 520 روپے اور آئل 540 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 170 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان سے قبل انتظامیہ کو قیمتوں میں استحکام یقینی بنانا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ گراں فروشی کے خلاف موثر کارروائی کرے اور سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائیمارکیٹ میں درجہ اول عجوہ اور درآمدی کھجور کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے شہریوں کو خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایرانی کھجور 400 سے 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ سعودی کھجور کی قیمت 3000 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ دوسری جانب مقامی سندھی کھجور 150 سے 200 روپے فی کلو دستیاب ہے، جو شہریوں کے لیے نسبتاً سستی اور قابل برداشت سمجھی جا رہی ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ کھجور کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی ٹیکسز اور اخراجات میں اضافے کے سبب ہوا ہے، جبکہ رمضان کے قریب طلب میں اضافہ بھی نرخوں پر اثرانداز ہوا ہے۔ رمضان سے قبل مرغی مہنگی ہوگئی اور سرکاری آسمان کو چھونے لگے۔مرغی کاگوشت سرکاری قیمت کے مقابلے میں 30روپے اضافی قیمت پر فروخت کیاجارہاہے۔ دکاندار مقررکردہ نرخوں پرعملدرآمدکرنے کوتیار نہیں،سرکاری نرخ نامے کے مطابق مرغی کے گوشت کی قیمت 510 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 540 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح زندہ مرغی کی سرکاری قیمت 336 روپے فی کلو ہے، لیکن دکاندار اسے 350 روپے فی کلو تک بیچ رہے ہیں۔
لاہور( کرائم رپورٹر)ملک بھر میں رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھنے لگا ہے، تاہم شہری بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے منتظر ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں آٹے کے سوا تقریباً تمام اشیاء کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق معیاری چاول 400 سے 620 روپے فی کلو، جبکہ درجہ اول کا گھی اور کوکنگ آئل 590 سے 610 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔ درجہ دوم کا گھی 520 روپے اور آئل 540 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 170 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان سے قبل انتظامیہ کو قیمتوں میں استحکام یقینی بنانا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ گراں فروشی کے خلاف موثر کارروائی کرے اور سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائیمارکیٹ میں درجہ اول عجوہ اور درآمدی کھجور کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس سے شہریوں کو خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایرانی کھجور 400 سے 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ سعودی کھجور کی قیمت 3000 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔ دوسری جانب مقامی سندھی کھجور 150 سے 200 روپے فی کلو دستیاب ہے، جو شہریوں کے لیے نسبتاً سستی اور قابل برداشت سمجھی جا رہی ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ کھجور کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی ٹیکسز اور اخراجات میں اضافے کے سبب ہوا ہے، جبکہ رمضان کے قریب طلب میں اضافہ بھی نرخوں پر اثرانداز ہوا ہے۔ رمضان سے قبل مرغی مہنگی ہوگئی اور سرکاری آسمان کو چھونے لگے۔مرغی کاگوشت سرکاری قیمت کے مقابلے میں 30روپے اضافی قیمت پر فروخت کیاجارہاہے۔ دکاندار مقررکردہ نرخوں پرعملدرآمدکرنے کوتیار نہیں،سرکاری نرخ نامے کے مطابق مرغی کے گوشت کی قیمت 510 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 540 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح زندہ مرغی کی سرکاری قیمت 336 روپے فی کلو ہے، لیکن دکاندار اسے 350 روپے فی کلو تک بیچ رہے ہیں۔