لیلا پہلوی ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی اور ملکہ شاہ بانو فرح پہلوی کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔
وہ 27 مارچ 1970ء کو تہران میں پیدا ہوئیں اور شاہی محل میں محفوظ ماحول میں بچپن گزارا۔
جلاوطنی اور مشکل زندگی:
1979ء کے ایرانی انقلاب کے دوران جب شہزادی کی عمر 9 برس تھی، شاہی خاندان کو ایران چھوڑنا پڑا۔انقلاب کے بعد خاندان نے مصر، مراکش اور امریکہ میں رہائش اختیار کی۔1980ء میں شاہ محمد رضا پہلوی قاہرہ میں انتقال کر گئے، اور لیلا کی عمر 10 برس تھی۔
صحت اور ذہنی دباؤ:
جلاوطنی، شناخت کے بحران اور دباؤ کے باعث لیلا ڈپریشن، دائمی تھکن اور شدید اینوریکسیا میں مبتلا ہوئیں۔علاج کے دوران انہیں نیند کی گولیوں کا استعمال کرنا پڑا۔
عوامی زندگی اور شہرت:
وہ عوامی زندگی سے دور رہیں اور مختصر عرصے کے لیے پیرس میں ماڈلنگ بھی کی، مگر شہرت سے گریز کیا۔
وفات:
10 جون 2001ء کو لندن کے ایک ہوٹل میں لیلا پہلوی مردہ پائی گئیں، عمر صرف 31 برس تھی۔عدالتی تحقیقات کے مطابق ان کی موت ممکنہ خودکشی تھی، نیند کی دو گولیوں کے بجائے 40 گولیاں لینے کے باعث ہوئی، اور جسم میں منشیات کے آثار بھی ملے۔انہیں پیرس میں دفن کیا گیا۔
بعد کے واقعات:
2011ء میں ان کے بھائی شہزادہ علی رضا نے بھی جلاوطنی میں خودکشی کی۔والدہ ملکہ شاہ بانو فرح پہلوی نے اپنی یادداشتوں میں ان ذاتی سانحات اور دکھ کا ذکر کیا۔