30 برس سے جامع مسجد دہلی میں روزے داروں کو افطاری کرانے والی ہندو خاتون کی کہانی

30 برس سے جامع مسجد دہلی میں روزے داروں کو افطاری کرانے والی ہندو خاتون کی کہانی

نیہا بھارتی کا افطار کا اہتمام: ہندو مسلم اتحاد کی شاندار مثال

نئی دہلی: رمضان کے مقدس مہینے میں نیہا بھارتی، جو ایک ہندو خاتون ہیں، دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں روزہ داروں کے لیے افطار کا اہتمام کرتی ہیں۔ نیہا بھارتی نے گزشتہ تین برسوں سے روزے داروں کے لیے افطار کا انتظام کیا ہے اور اس نیک عمل میں ان کے والدین کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس اقدام کا مقصد ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی کشیدگی کے ماحول میں امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دینا ہے۔نیہا بھارتی کا کہنا ہے، "میرا مقصد یہ تھا کہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچے کہ آج بھی ہندو مسلم اتحاد زندہ ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ لوگ یہ دیکھیں کہ کتنے لوگ بھائی چارے کی شاندار مثالیں قائم کر رہے ہیں اور اچھے کام کر رہے ہیں۔"نیہا بھارتی کا یہ قدم نہ صرف مسلمانوں کے لیے ہے، بلکہ ہندو کمیونٹی کے افراد بھی اس میں بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ نیہا کے ساتھ کام کرنے والے کئی ہندو افراد افطار کے لیے عطیات دیتے ہیں اور روزے داروں کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں۔ ان افراد کی مدد سے نیہا بھارتی جامع مسجد میں روزے داروں کے لیے افطار کی فراہمی کا انتظام کرتی ہیں۔

نیہا کی مدد کرنے والی ایک اور ٹیم ممبر رمشہ نور کا کہنا ہے کہ "یہ ایک مثبت پیغام ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے، کہ وہ گھروں سے باہر نکلیں اور دوسروں کی مدد کریں۔ شروع میں ہم دو لڑکیاں تھیں، لیکن اب ہماری ٹیم میں پانچ لڑکیاں شامل ہو چکی ہیں۔"اناس احمد، جو نیہا کے افطار اہتمام میں ہمیشہ شامل رہتے ہیں، کا کہنا ہے کہ نیہا کی طرف سے افطار کرنا ایک الگ روحانی خوشی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، زید قریشی اور محمد افروز جیسے افراد نے بھی نیہا کے نیک عمل کی تعریف کی اور کہا کہ یہ ہندو مسلم اتحاد کی بہترین مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "نیہا محبت بانٹ رہی ہیں اور بھائی چارے کا پیغام دے رہی ہیں، اللہ انہیں اجر دے گا۔"نیہا بھارتی کا یہ نیک عمل سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے، جہاں لوگ اسے مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور محبت کی شاندار مثال قرار دے رہے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ سماج میں بھی اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔