’’ یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا،ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے ‘‘

  شاعر محسن نقوی کی30ویں برسی آج منائی جائے گی،تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا
جہانیاں(خصوصی رپورٹ)’’  یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا،ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کرکے ‘‘  معروف شاعر محسن نقوی کی30ویں برسی 15جنوری جمعرات کو منائی جائے گی اس سلسلے میں جہانیاں ،ملتان،ٹھٹھہ صادق آباد ،ڈیرہ غازی خان سمیت مختلف شہروں کے ادبی حلقوں میں تقریبات کا اہتمام کیا جائے گاجس میں محسن نقوی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ محسن نقوی جنوبی پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان کے رہائشی تھے۔ محسن نقوی 1955ء کو ڈیرہ غازی خان کے گائوں سادات میں پیدا ہوئے  انہوں نے اپنی تعلیم ڈیرہ غازی خان،ملتان اور لاہورکے تدریسی اداروں سے حاصل کی یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ محسن نقوی کا اصل نام غلام عباس جبکہ محسن ان کا قلمی نام تھا لیکن وہ محسن نقوی کے نام سے مشہور ہوئے محسن نقوی کا شمار اردو ادب کے صف اول کے شعرا ء میں ہوتا ہے انہیں غزل آوارگی سے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ان کی معروف ترین کتب میں  ’’  عذاب دید ،خیمہ جاں،رخت شب،فرات فکر،روز حرف،برگ صحرا،بند قبا  ‘‘  اور دیگر قابل ذکر ہیں وہ مسلک اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ذاکر تھے وہ مرثیہ گوئی میں بھی ثانی نہیں رکھتے تھے۔محسن نقوی کو 15جنوری 1996ء کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا ۔