امام موسی کاظم ؑ نے مشکل مراحل میں بھی جرات و بہادری سے مصائب کا مقابلہ کیا
ہر میدان میں آپ کی رہنمائی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے، یوم شہادت پرپیغام
راولپنڈی/اسلام آباد(آئی این پی )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ساتویں امام حضرت امام موسی کاظم ؑ کے یوم شہادت (25 رجب المرجب) پر اپنے پیغام میں کہا کہ 35 سالوں پر محیط دور امامت میں زندگی کے ہر میدان میں آپ کی مسلسل رہنمائی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ امام موسی کاظم ؑ نے اپنے جد امجد پیغمبر گرامی کے عمل و کردار کو اپناتے ہوئے جب یہ محسوس کیا کہ اس وقت کی منحرف قوتیں دینی عقائد و نظریات کو مسخ کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں تو آپ نے انحراف کے خلاف صدائے حق بلند کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہ لیا چنانچہ آپ کو اس عمل کی پاداش میں کئی سال قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار کیا گیا اور بالاخر امام برحق کی شہادت بھی انہی تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے ہوئی۔انہوں نے کہا کہ امام موسی ابن جعفر ؑ کی امامت کا آغاز ایک مشکل ترین زمانے میں ہوا جب وہ اپنے والد گرامی حضرت امام جعفر صادق ؑ کی شہادت کے بعد منصب امامت پر فائز ہوئے تو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ بنو عباس اپنی خلافت کی ابتدا میں پیدا ہونے والے داخلی اختلافات اور جنگوں سے فراغت پاچکے تھے اور اپنے مخالفین کی سختی سے سرکوبی کرنے کے بعد انہیں خاموش کررہے تھے۔ چنانچہ جلاوطنی اور اسارت جیسے کٹھن اور مشکل مراحل میں بھی امام ؑ نے عزم و استقلال اور جرات و بہادری سے مصائب کا مقابلہ کیا