تسلیم کرنا ہوگا ٹیکس اور انرجی قیمت زیادہ ہے سچ ہے کچھ فرمیں ملک سے جا رہی ہیں وزیرخزانہ کا اعتراف

ٹیکس پالیسی اب وزارت خزانہ کے پاس ہے، ایف بی آر کا کام ٹیکس محصولات جمع کرنا ہے، ایف بی آر کی توجہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہے،  گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے
ڈیوٹی میں اضافہ نقصاندہ‘ہمیں ڈیوٹیوں کو  بڑھانے کے بجائے معقول بنانا ہوگا ‘کاروباری لاگت کم کرنا ہوگی‘  معاشی اصلاحات پاکستان کیلئے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہوسکتی ہیں
ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہورہے ہیں، یوٹیلیٹی سٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہورہی تھی:پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن)  وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے یہ سچ ہے  کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں اور ہمیں تسلیم کرناچاہیے  ٹیکس زیادہ ہے یاانرجی قیمت زیادہ ہے تو یہ حقیقی مسائل ہیں۔ ٹیکس پالیسی اب وزارت خزانہ کے پاس ہے، ایف بی آر کا کام ٹیکس محصولات جمع کرنا ہے۔ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے  انہوں نے کہا  ٹیکس پالیسی اب وزارت خزانہ کے پاس ہے، ایف بی آر کا کام ٹیکس محصولات جمع کرنا ہے، ایف بی آر کی توجہ ٹیکس اکٹھا کرنے پر ہے، ٹیکس پالیسی کو ایف بی آر سے لے کر فنانس ڈویڑن کو منتقل کیا، گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے اور رواں سال 41 ارب ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہونیکی توقع ہے۔ انہوں  نے کہا کہ ٹیرف شعبے میں بڑے اصلاحات متعارف کرائے ہیں، یہ سچ ہے کہ کچھ فرمز ملک سے جارہی ہیں، ہمیں تسلیم کرناچاہیے کہ ٹیکس زیادہ ہے یاانرجی قیمت زیادہ ہیتو یہ حقیقی مسائل ہیں، ہم جتنی ڈیوٹیز بڑھاتے جائیں تو یہ ہمارے لیے نقصان ہے، ہمیں ڈیوٹیز کو معقول بنانا ہوگا اورکاروباری لاگت کم کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا  کہ غیربینکنگ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام میں شامل کیاجارہاہے، برآمدات پر مبنی معیشت کی طرف جانے کیلیے ٹیرف کو ریشنلائز کرنا ناگزیر ہے، رواں سال جون تک تمام حکومتی ادائیگیاں ڈیجیٹل چینلز پر منتقل ہوجائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشی اصلاحات سے ہی ترقی ممکن ہے، حکومتی اصلاحات کا مقصد ملکی خزانے پر بوجھ کو کم کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیرف میں کمی سے پاکستان کی برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا، پہلی بارٹیرف اصلاحات کے ذریعے خام مال پرڈیوٹیز کوکم کیا، موجودہ معاشی اصلاحات پاکستان کیلئے ایسٹ ایشیا موومنٹ ثابت ہوسکتی ہیں جب کہ قرضوں کی ادائیگی خودکم نہیں ہوئی، ہم نے اقدامات کیے۔ن کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، 24 ادارے نجکاری کمیشن کے حوالے کیے گئے ہیں، سرکاری اداروں میں ہر سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے ضائع ہورہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورز، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا گیا، ان اداروں کو دی گئی سبسڈی میں کرپشن ہورہی تھی۔