ٹیکس آمدن میں اضافہ نہ کر سکے تو تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر ٹیکس بڑھے گا(وزیرخزانہ)

معاشی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، معاشی اصلاحات جاری رکھیں گے، تساہل کی گنجائش نہیں‘صحیح سمت میں جا رہے ہیں، طویل سفر باقی ہے
پنشن میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں پیغام مل رہا ہے ‘ دوست ممالک پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں: کراچی میں دی فیوچر سمٹ سے خطاب
کراچی(بیورو رپورٹ‘ایجنسیاں)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں، طویل سفر باقی ہے، معاشی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے اقدامات جاری ہیں، معاشی اصلاحات جاری رکھیں گے، تساہل کی گنجائش نہیں،دوست ممالک پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی میں دی فیوچر سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  محمد اورنگزیب نے کہا کہ 6 ماہ میں انٹرنیشنل سطح کے ساتھ مقامی  سطح پر کریڈٹ ریٹنگ پر  بھی قیمتیں کم ہوئیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی کم ہوئی ہیں، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر سنگل ڈیجیٹ پر ہے، شرح سود 17.5 سے کم ہوکر 15 فیصد پر آگئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں اصلاحات کے اثرات نظر آرہے ہیں، حکومتی سطح پر اداروں میں اصلاحات کی ضرورت ہے، ملک میں معیشت کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، یہ تمام مثبت اشاریے حکومت کی موثر پالیسیوں کے ثمرات ہیں، معاشی بہتری کے ثمرات کی عام آدمی تک منتقلی یقینی بنائی جا رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں 2.5 فیصد کمی کی ہے، مالی سال کے اہداف کے حوالے سے چیزیں بہت بہتر ہورہی ہے، کراچی انٹربینک آفر ریٹ اس وقت 13 فیصد تک آگیا ہے، فوڈ انفلیشن میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔   ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کچھ فیصلے لیے ہیں، غیرملکی مہمانوں کے لیے ویزا سہولت آن لائن کررہے ہیں، پاکستان میں میکرواکنامک استحکام دیکھا جارہا ہے، پاکستان کے دہرے خسارے میں بہتری آرہی ہے، ملک کا مالیاتی خسارہ اور کرنٹ اکائونٹ بہتر حالت میں ہے، ملکی کرنسی کی قدر میں استحکام ہے، انہوں نے کہا کہ پنشن میں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں پیغام مل رہا ہے کہ معیشت پر کام جاری رکھیں، ہمارے پاس تساہل کی گئی گنجائش نہیں ہے، ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں ہے، معاشی اصلاحات کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں نے  کہا  ملک کا ٹیکس ریونیو 9.4 ٹریلین ہے۔ اور ملک کا 9 ٹریلین زیر گردش کرنسی ہے۔ جس اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے تو مسائل ہونگے، اگر ٹیکس ریو نیو اس مرتبہ نہ بڑھا سکے تو تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں پر ٹیکس بڑھے گا۔