پاکستانی لڑاکا طیاروں کی مانگ بڑھ گئی شہبازشریف
بھارت سے جنگ کے بعد کئی ممالک لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لئے بات کر رہے ہیں، اِس سے ملک کی معیشت کو فائدہ ہوگا‘دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ضرور کامیاب ہوگا:وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب
ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کے اہم حصے ہیں، شہریوں کیلئے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے:شہبازشریف کی وفد سے ملاقات میں گفتگو
اچھی کارکردگی پر انعام، کمزور کارکردگی پر احتساب‘ افسروں کی ترقی اور مراعات کارکردگی سے مشروط کرنے کی ہدایت‘وفاقی سیکرٹریوں کی کارکردگی جانچنے کیلئے جامع نظام تشکیل دیا جائے : وزیراعظم کی کمیٹی کو ہدایت
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ضرور کامیاب ہوگا‘وفاقی دارالحکومت میں شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا بھارت کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد پاکستان کے لڑاکا طیاروں کی دنیا بھر میں مانگ بڑھ گئی ہے، کئی ممالک لڑاکا طیاروں کے لیے بات کر رہے ہیں، اِس سے ملک کی معیشت کو فائدہ ہوگا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ضرور کامیاب ہو گا، اور ہم اِس لعنت کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔ پاکستان نے معاشی میدان میں کم وقت میں بہتر پیشرفت دکھائی، ہم ملک میں معاشی استحکام لے آئے ہیں، اب ہم ترقی کی جانب آگے بڑھیں گے۔دریں اثناء وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ورلڈ لبرٹی فنانشل، امریکہ کے وفد نے چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وٹکوف کی قیادت میں ملاقات کی۔اس موقع پرو فد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے ڈیجیٹل پاکستان کے لئے اپنے وژن کا اظہار کیا جس کا مقصد شہریوں کیلئے روابط، آسان رسائی اور شفافیت کو فروغ دینا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ اور مالیاتی جدت پاکستان کی تیزی سے پھیلتی ڈیجیٹل معیشت کے اہم حصے ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی مارکیٹس میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی دلچسپی کو سراہا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان تیزی سے عالمی ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بن رہا ہے۔ زچری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ ایک محفوظ اور شفاف ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے کیلئے کام کرنے میں دلچسپی ظاہر کی، جس میں سرحد پار سیٹلمنٹ اور زرمبادلہ کے حصول و ادائیگی کے عمل میں جدتیں شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے پالیسی فریم ورک کی تعریف کی جو عالمی ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ملک کو ایک اہم ملک کے طور پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل ادائیگیوں اور سرحد پار مالیاتی جدتوں کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ بعد ازاں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفینس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے حکومت پاکستان اور ایس سی فنانشل ٹیکنالوجیز ایل ایل سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا مشاہدہ کیا جو کہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سے منسلک ادارہ ہے تاکہ سرحد پار لین دین کے لیے ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل ادائیگی کے آرکیٹیکچرز کے بارے میں مکالمے اور تکنیکی سمجھ بوجھ کے تبادلوں کو ممکن بنایا جا سکے۔علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سول سروسز میں مجوزہ اصلاحات اور وزارتوں میں کارکردگی جانچنے کے نظام سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس ہوا، جس میں ملکی بیوروکریسی کو عالمی معیار اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم پالیسی سمت کا تعین کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سول سروس کسی بھی ملک کے گورننس نظام اور عوامی فلاح و بہبود کا بنیادی ستون ہوتی ہے، اس لیے اس میں اصلاحات وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا ہدف ایسی سول سروس تشکیل دینا ہے جو مؤثر عوامی خدمت، شفافیت اور کارکردگی پر مبنی ہو اور جس کے اثرات براہ راست عوام کی زندگیوں میں بہتری کی صورت میں نظر آئیں۔وزیراعظم نے سول سروسز اصلاحات پر قائم کردہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ وفاقی سیکرٹریز اور دیگر افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک جامع، شفاف اور قابلِ عمل نظام تجویز کیا جائے، جس کی بنیاد پر ترقی، مالی مراعات، اضافی سہولیات اور کیریئر پیش رفت کا فیصلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی اور تحسین پورے سول سروس نظام کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے۔