15آئی پی پیز کیساتھ نئے معاہدےسستی بجلی فراہم کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں:شہبازشریف
نئے معاہدوں کی منظوری سے بجلی 10 سے 11 روپے یونٹ سستی ‘ خزانے کو 500 ارب روپے سے زائد کی بچت کاامکان ہے،وفاقی کابینہ نے پاک چین آئی پی پیز کیساتھ تھ معاہدہ ختم کرنے کی بھی منظوری دیدی
نئے معاہدوں کے بعد آئی پی پیز کو لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں 80 ارب ادا نہیں کرنے پڑیں گے‘ کابینہ نے ایوی ایشن ڈویژن کو وزارت دفاع جبکہ نارکوٹکس ڈویژن کو وزارت داخلہ میں ضم کرنے کی منظوری دے دی
اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی کابینہ نے مزید 15 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کی منظوری دے دی، نئے معاہدوں سے قومی خزانے کو 500 ارب روپے سے زائد کی بچت جبکہ فی یونٹ بجلی 10 سے 11 روپے سستی ہونے کا امکان ہے۔میڈیا رپورٹ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے مزید 15 آئی پی پیز کیساتھ نئے معاہدے کی منظوری دے دی، نئے معاہدوں سے قومی خزانے کو 500 ارب روپے سے زائد کی بچت کاامکان ہے۔وفاقی کابینہ نے پاک چین آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کی بھی منظوری دے دی، کابینہ نے فیصلہ کیا کہ کیپکو کے ساتھ بھی نظرثانی شدہ معاہدہ کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق نئے معاہدے کے بعد ان آئی پی پیز کو لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں 80 ارب روپے بھی ادا نہیں کرنے پڑیں گے جبکہ نئے معاہدوں سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے ایوی ایشن ڈویژن کو وزارت دفاع جبکہ نارکوٹکس ڈویژن کو وزارت داخلہ میں ضم کرنے کی منظوری دے دی۔وفاقی کابینہ نے قومی اقلیت کمیشن ایکٹ 2024 مخر کردیا جبکہ سی سی ایل سی کے فیصلوں کی بھی توثیق کردی، کابینہ ماحولیاتی ٹریبونل اسلام آباد کے ممبر محمد بشیر خان کی مدت ملازمت میں دو سال کی توسیع کردی۔وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب میں بجلی پیدا کرنے والی سرکاری کمپنیوں کی جانب سے کیپیسٹی پیمنٹ کی وصولی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے سرکاری جنکوز (بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاوں)کا کیا کام ہے وہ کیپیسٹی پیمنٹ لیں، وہ سرکار کے منصوبے ہیں، ڈالر میں ادائیگیاں بڑا مسئلہ ہے۔ شہباز شریف نے کہا پی ٹی آئی دورِ حکوم میں معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچایا گیا،فتنہ الخوارج کے خلاف دن رات آپریشنز جاری ہیں، بیش بہا قربانیوں سے یہ فتنہ ہمیشہ کیلیے دم توڑ جائے گا،کرم میں حالات اب معمول پر آ رہے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر وہاں پر امن کو قائم رکھیں گے اور متحارب گروپوں میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مشرکہ طور پر کردار ادا کریں گے تاکہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی تعلیم کے حوالے سے چیلنجز درپیش ہیں، تقریبا 22.8 ملین بچے اسکول نہیں جاتے، جس میں اکثریت بچیوں کی ہے، یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ تعلیم کے شعبے میں صوبوں کا اہم کردار ہے، وفاق کو صوبوں کے ساتھ مل کر تعلیم کے میدان میں درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے کچھ ماہ پہلے تعلیم کے میدان میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ میں وزیرتعلیم کو گزارش کروں گا کہ وہ صوبوں کے ساتھ رابطہ کاری کرکے تعلیم کے میدان میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کریں، یہ بہت بڑی کوشش ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ کرم میں حالات اب معمول پر آ رہے ہیں۔ امن معاہدے کے بعد ایک بہت بڑا دھچکا لگا تھا، وہاں پر مورچے قائم کیے گئے تھے، جو اب مسمار کیے جا رہے ہیں اور وہاں پر خوراک و ادویات کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر وہاں پر امن کو قائم رکھیں گے اور متحارب گروپوں میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے مشرکہ طور پر کردار ادا کریں گے تاکہ آئندہ ایسے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔دریں اثناء کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا عوام کو کم لاگت، ماحول دوست اور تسلسل سے بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔۔اجلاس میں حکومت نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے خصوصی و صنعتی زونز صنعتی اسٹیٹس کیلئے یکساں ٹیرف کی سفارش کو منظور کیا جبکہ خصوصی صنعتی زونز و صنعتی اسٹیٹس کو بجلی فراہمی کیلئے نئے نظام کی منظوری دی گئی۔وزیراعظم نے کہا صنعتوں کو یکساں ٹیرف پر بجلی کی فراہمی سے ملکی صنعتی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوگا، صنعتوں کا پہیہ چلنے سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونگے، برآمدات میں اضافہ ہوگا جبکہ خصوصی صنعتی زونز کو بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری سے صنعتیں معیشت کی مزید ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گی۔