یمن تنازع کو موثر سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے، فوجی آپریشن سے بڑھ جائیگا:پاکستان

 دسمبر 2023کے مذاکرات میں پیش رفت کو محفوظ اور مستحکم کرنا اور دیرپا امن کے لیے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جاناچاہیے،منیر اکرم
عالمی برادری اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنائے، اس طرح کے اقدامات کے ذمہ داروں کا احتساب کرے، مستقل مندوب کا خطاب 
نیویارک(آئی این پی )پاکستان نے کہا ہے کہ یمن میں جاری تنازعے کو موثر سفارتکاری اور اجتماعی رد عمل کے ذریعے حل کیا جائے، فوجی آپریشن سے یہ تنازع مزید بڑھ جائیگا۔یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے سلامتی کونسل سے خطاب کے دوران کہی۔ منیر اکرم نے کہا کہ یمن میں جاری تنازع مقامی سے علاقائی اور بالآخر عالمی مضمرات کے ساتھ ایک بحران کی صورت اختیار کر چکا،اسے موثر سفارت کاری اور اجتماعی ردعمل کے ذریعے حل کیا جائے، فوجی آپریشن دوبارہ شروع کرنے سے یہ تنازع مزید بڑھ جائیگا،اس تنازعے کی وجہ سے ملک کی تقریباً نصف آباد ی کا انحصار انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد اور تحفظ پر ہے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ دسمبر 2023کے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو محفوظ اور مستحکم کرنا اور دیرپا امن کے لیے وعدوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جاناچاہیے۔پاکستانی مندوب نے یمن کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہنس گرنڈ برگ کی جاری ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ روڈ میپ ملک گیر جنگ بندی، منظم سیاسی عمل، تنازعات سے متاثرہ ملک کو درپیش اہم اقتصادی اور انسانی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے قابل عمل راستہ ہے۔یمن کی طرف سے پکڑے گئے بحری جہاز گیلیکسی لیڈر کے عملے کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے انصار اللہ کی طرف سے اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور بین الاقوامی اور قومی این جی اوز اور سفارتی مشنوں کے عملے کی من مانی حراست کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صعدہ میں حوثیوں کے زیر حراست ورلڈ فوڈ پروگرام کے عملے کے ایک رکن کی المناک موت پر غمزدہ ہیں اور اس کے اہل خانہ اور چاہنے والوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔منیر اکرم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور اس طرح کے اقدامات کے ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے زیر حراست تمام اہلکاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔