سعودی اتحادی فورسز کی جانب سے یمن میں ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں پر حملہ ‘ یمن نے 90 روز کیلئے ایمرجنسی نافذ کردی‘ فضائی، بحری اور بری حدود 72 گھنٹوں کیلئے بند رہیں گی

یمن کا یو اے ای کیساتھ دفاعی معاہدہ ختم یمن کی امداد بند کی جائے:سعودی عرب‘الزامات مسترد کرتے ہیں:یو اے ای
یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہو گا:یمن‘سعودی عرب کے سخت ردعمل پر یو اے ای نے یمن میں تمام انسداد دہشت گردی کارروائیاں ختم اور فوجیوں کو واپس بلانے کافیصلہ کرلیا
 قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کو ریڈ لائن سمجھا جائے گا، ہم کسی ایسے اقدام سے گریز نہیں کریں گے جو اس خطرے کے سدباب کیلئے ضروری ہو، یمن کے امن کیلئے مذاکرات ہی واحد حل ہیں:سعودی وزارت خارجہ 
 مکلا بندرگاہ پر لنگرانداز  جہازوں پر اسلحہ نہیں تھا، بندرگاہ پر جہاز یمنی گروپ  کیلئے نہیں اماراتی فورسز کیلئے تھے، یمن کی حالیہ صورتحال کو مزید کشیدہ نہیں ہونے دینا چاہیے، سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حملہ حیران کن تھا:یو اے ای
صنعا‘ریاض‘دبئی (آئی این پی )یمن کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے متحدہ عرب امارات(یو اے ای)  کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ اعلان کر دیا۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق رشاد العلیمی نے کہا کہ یمن میں موجود یو اے ای کی تمام فورسز کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنا ہو گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یمن کی تمام بندرگاہوں اور زمینی و بحری گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل فضائی، زمینی اور بحری ناکہ بندی نافذ کی جا رہی ہییمن نے سعودی اتحادی فورسز کے حملے کے بعد ملک میں 90 روز کیلئے  ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق یمنی صدارتی کونسل نے ملک میں 90 روز کیلئے  ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا ہے,یمنی صدارتی کونسل کے مطابق یمن کی فضائی، بحری اور بری حدود 72 گھنٹوں کیلئے  بند رہیں گی۔  اس سے قبل کہا گیا کہ سعودی اتحاد فورسز نے مکلا بندرگاہ پر اتارے گئے اسلحے اور فوجی گاڑیوں کو محدود کارروائی میں نشانہ بنایا,سعودی اتحادی فورسز کی کارروائی اس وقت کی گئی، جب 2 بحری جہاز بغیر اجازت بندرگاہ میں داخل ہوئے اور مشرقی یمن میں سدرن ٹرانزیشنل کونسل کے لیے اسلحہ اور عسکری سامان اتارا گیا۔ اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے بتایا کہ یہ دونوں جہاز 27 اور 28 دسمبر 2025 کو فجیرہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر مکلا پہنچے، انہوں نے اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ سے کوئی باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی تھی۔دی عرب کے سخت ردعمل پر یو اے ای نے یمن میں تمام انسداد دہشت گردی کارروائیاں ختم اور فوجیوں کو واپس بلانے کافیصلہ کرلیا‘دریں اثناء سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن کے امن کیلئے مذاکرات ہی واحد حل ہیں۔ یو اے ای کا یمنی جنوبی عبوری کونسل پر دبا  ئوڈال کر کارروائیوں پر آمادہ کرنا افسوسناک ہے۔ ریاض سے سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام ہماری قومی سلامتی اور جمہوریہ یمن کے امن سمیت پورے خطے کیلئے خطرہ ہے، یہ اقدامات یمنی حکومت کی حمایت کیلئے عرب اتحاد کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔سعودی عرب کے مطابق قومی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے یا اس سے چھیڑ چھاڑ کو ریڈ لائن سمجھا جائے گا، ہم کسی ایسے  اقدام سے گریز نہیں کریں گے جو اس خطرے کے سدباب کیلئے ضروری ہو۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم یمن کے امن، استحکام اور خود مختاری کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔ سعودی عرب نے صدر یمنی صدارتی قیادت کونسل اور ان کی حکومت سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔  سعودی عرب نے کہا کہ یمن کے ساتھ جنوبی مسئلے کے تاریخی اور سماجی پہلو ہیں، مسئلے کا حل جامع سیاسی عمل کے تحت مذاکرات کی میز پر ممکن ہے‘متحدہ عرب امارات نے یمن سے متعلق سعودی عرب کے بیان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے تمام الزامات مسترد کردیئے ۔   سعودی عرب کے اس بیان پر یو اے ای کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ سعودی عرب کے بیان  سے مایوسی ہوئی ہے، یمن سے متعلق تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔یو اے ای کا کہنا ہے  مکلا بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والے جہازوں پر اسلحہ نہیں تھا، بندرگاہ پر جہاز یمنی گروپ کے لیے نہیں اماراتی فورسز کے لیے تھے،  یمن میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے ذمہ داری سے نمٹنا چاہیے۔یو اے ای کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی حالیہ صورتحال کو مزید کشیدہ نہیں ہونے دینا چاہیے، سعودی اتحادی فورسز کا یمن میں حملہ حیران کن تھا۔