پاکستان بارے بھارت امریکہ مشترکہ بیان غلط اوربے بنیاد ،دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے طور پر پاکستان امن و استحکام کے فروغ کا خواہاں ، دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے پرعزم ہے
بھارت کی جانب سے دہشتگردی کی سرپرستی، محفوظ پناہ گاہوں اور اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا:ترجمان کی بریفنگ
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان نے امریکہ کی جانب سے بھارت کو جدید اسلحہ کی فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے جنوبی ایشیا کے امن میں عدم استحکام پیدا ہو گا، پاکستان بارے بھارت امریکا مشترکہ بیان غلط اوربے بنیاد ہے،دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے طور پر پاکستان دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کا خواہاں ہے، پاکستان دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان خیالات کااظہار ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجیز کی بھارت منتقلی پر شدید تحفظات ہیں۔ بھارت عوامی حقوق کی پامالی کا جواب دینے میں ناکام رہا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا مقبوضہ کشمیر میں دو نوجوانوں کو شہید کیے جانے اور شہدا کی جائیدادوں پر قبضے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے دیرینہ تعلقات ہیں، امریکا کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن واپسی کا معاملہ پاک امریکا باہمی رابطے کا حصہ ہے، کوئی بھی ملک غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیج سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا دہشتگردی کیخلاف پاکستان اور امریکا کے تعاون کے باوجود مشترکہ اعلامیے میں ایسا حوالہ آجانا حیران کن ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کسی مشترکہ بیان میں ایسے حوالے کو شامل کروا کر بھارت کی جانب سے دہشتگردی کی سرپرستی، محفوظ پناہ گاہوں اور اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر ماورائے عدالت قتل کی وارداتوں پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔خیال رہے کہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائے اور اپنی سر زمین سرحد پار دہشتگردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دے۔