اسلام آباد(آئی ا ین پی ) تحریک انصاف سے نکالے گئے شیر افضل مروت نے قومی اسمبلی میں آتے ہی مجھے کیوں نکالا کا نعرہ بلند کردیا۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران شیر افضل مروت کی اسمبلی آمد پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجائے جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ لوگ انہیں مروا نہ دینا‘ شیر افضل مروت کے مختصر نکتہ اعتراض پر حکومتی ارکان نے قہقہے لگائے ۔ حکومتی ارکان نے بھی مروت کو کیوں نکالا جواب دو اور ظالمو جواب دو مروت کا حساب دو کے نعرے بلند کیے۔لیکن پی ٹی آئی اراکین خاموش رہے۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا شکل نہ دکھا تو ملک چھوڑ دوں گا، بانی پی ٹی آئی کو ہر بات ٹھیک نہیں بتائی جاتی اورغلط کان بھرے جاتے ہیں۔ عمران خان نے استعفی دینے کا کہا تو ایک منٹ دیر نہیں کروں گا۔ ان کا دماغ خراب ہے جو مجھے ڈسپلن سکھا رہے ہیں۔ اب میں ڈسپلن کی قید سے آزاد ہوں۔ صوابی جلسے میں مہمان کے طور پر گیا تھا۔ صوابی جلسے میں پہلی مرتبہ نعرے نہیں لگے۔ میرے نعرے پہلے جلسوں میں بھی لگے۔ اگر جلسے میں سارے ورکرز میرے تھے تو پھر اگر نعرے لگے تومیرا حق تھا۔انہوں نے کہا کہ صوابی جلسے میں پی ٹی آئی نے لوگوں کو بلایا تھا کوئی میں نے تو نہیں بلایا تھا۔ نعروں میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ وزارتیں لینے،اسٹینڈنگ کمیٹیاں لینے یا کسی کو بنانے یا پھر کسی کو گرانے کے لئے خان کے پاس جاتے ہیں۔شیر افضل مروت نے کہا کہ میں نے آوازیں اٹھائی ہیں کہ پارٹی فنڈ کا آڈٹ ہونا چاہئیے۔ میں نے وکلا کو فیسیں دینے کا آڈٹ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ میں نے آواز اٹھائی ہے کہ ماضی میں پارٹی ٹکٹ بیچنے کا الزام لگا ہے اس کا آڈٹ ہونا چائیے۔