سڈنی فائرنگ: مائیکل وان ریسٹورنٹ میں فیملی کے ساتھ محفوظ رہے

سڈنی فائرنگ: مائیکل وان ریسٹورنٹ میں فیملی کے ساتھ محفوظ رہے

انگلینڈ کے سابق کرکٹر اور کپتان مائیکل وان نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈی بیچ پر پیش آنے والے فائرنگ واقعے کے دوران ریسٹورنٹ میں محفوظ رہنے کا انکشاف کیا ہے۔

مائیکل وان نے بتایا کہ وہ اور ان کی فیملی واقعے کے وقت ساحل کے قریب ایک ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔ وہ خود، ان کی اہلیہ، اہلیہ کی بہن، ان کی دو بیٹیاں اور ایک سہیلی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹ میں بند ہونا بہت خوفناک تھا، لیکن ایمرجنسی فورسز اور دہشت گرد کے خلاف لڑنے والے افراد کی جرات کی بدولت وہ محفوظ گھر پہنچ سکے۔وان نے کہا کہ واقعے کے وقت ریسٹورنٹ کا باؤنسر ہاتھ میں بندوق پکڑے ان کے پاس آیا اور انہیں اندر جانے کا کہا۔ وہ حملے کے مقام سے صرف چند سو قدموں کے فاصلے پر تھے اور سائرنز کی اونچی آوازیں سنیں۔

 وان نے وضاحت کی کہ عام طور پر وہ آوازیں شارک کے حملے یا نوجوانوں کی لڑائی کی وجہ سے سنائی دیتی ہیں، لیکن جلد ہی انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ فائرنگ کا واقعہ تھا، جو بہت خوفناک منظر تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران انہوں نے خود کو جتنا ممکن ہو سکے پُرسکون رکھنے کی کوشش کی تاکہ فیملی کے افراد بھی محفوظ رہ سکیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سڈنی کے بونڈی بیچ پر یہودیوں کی تقریب میں فائرنگ کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 40 زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔یہ واقعہ عالمی سطح پر ہنگامی سکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔