خود احتسابی کا عمل شروع کر کے تاریخ رقم کی ،فیض حمید سے متعلق مزید معاملات کی انکوائری چل رہی ہے، وہ اور عمران خان کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ چکا ،ہو سکتا ہے فیض حمید وعدہ معاف یا سلطانی گواہ بنیں
بانی کی ہمشیرہ نورین خانم نے بھارتی چینل پر کہا کہ اڈیالہ جیل کی دیواریں بڑی نہیں اور گیٹ توڑنا مشکل کام نہیں، ان کے بیان سے تحفظات ہیں جس سے حکومت الرٹ ہوئی ہے،وزیر مملکت
اسلام آباد(آئی این پی )وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل سے منتقلی کا معاملہ ضرور زیرِ غور ہے لیکن حتمی طور پر ابھی کچھ فیصلہ نہیں ہوا، 28ویں آئینی ترمیم کب آئے گی فی الوقت اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ا یک انٹرویو میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ امن و امان اور سکیورٹی کا مسئلہ پی ٹی آئی قیادت اور عمران خان کی بہنوں نے خود بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہمشیرہ نورین خانم نے بھارتی چینل پر کہا کہ اڈیالہ جیل کی دیواریں بڑی نہیں اور گیٹ توڑنا مشکل کام نہیں، ان کے بیان سے تحفظات ہیں جس سے حکومت الرٹ ہوئی ہے، قانون کہتا ہے کہ جیل سے آپ سیاسی گفتگو نہیں کر سکتے۔وزیر مملکت نے کہا کہ ایک ادارے نے خود احتسابی کا عمل شروع کر کے تاریخ رقم کی ہے، سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید سے متعلق فیصلہ آگیا ہے ان کو اپیل کا حق بھی موجود ہے، اگر ان کی اپیل مسترد ہوتی ہے تو ہائیکورٹ میں تمام معاملہ اتنا آسان نہیں ہے، لیگل پروسیجر کی کوئی بات ہو تو ہائیکورٹ میں معاملہ جوڈیشل ریویو کیلئے جا سکتا ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ فیض حمید سے متعلق مزید معاملات کی انکوائری چل رہی ہے، وہ اور عمران خان کا گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آ چکا ہے اس میں ابہام نہیں لیکن گٹھ جوڑ کی نوعیت اور اس کا تعلق 9 مئی سے کیا ہے یہ دیکھنا ضروری ہے۔سب چیزیں کھل کر سامنے آ چکی ہیں ہو سکتا ہے فیض حمید وعدہ معاف یا سلطانی گواہ بنیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خود بتا دیں کہ کہاں کہاں اور کھل کر سہولت کاری کی ہے۔ یہ معاملہ بھی آئے گا کہ سیاسی سرگرمیوں میں ریٹائرمنٹ سے پہلے یا حاضر سروس فیض حمید کا کردار کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی سویلین آرمی آفیشل کو ورغلائے تو اس حوالے سے آرمی ایکٹ میں لکھا ہوا ہے، سپریم کورٹ آئینی بینچ بھی کہہ چکا ہے کہ سویلین کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل غیر قانونی نہیں، سویلینز کے ٹرائل پہلے بھی ہوئے اب بھی ملٹری کورٹس میں چل رہے ہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کیس کا نارمل عدالت سے ملٹری کورٹس میں بھی ہو سکتا ہے۔ فیض حمید سے متعلق دیگر معاملات زیر تفتیش ہیں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہے۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم پر بحث کا آغاز ضرور ہو چکا ہے لیکن اس پر فی الوقت اتفاق رائے ہونا بہت ضروری ہے، پیپلز پارٹی بڑی اتحادی جماعت ہے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی واضح نمائندگی ہے۔انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کب آئے گی فی الوقت اس پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔