ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پاکستان اور قطر کے ذریعے ایران کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔
عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔دوسری جانب، ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم آبنائے کو کھولنے یا بند کرنے کا اختیار صرف ایران کے پاس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران امریکہ کی دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے سے خوفزدہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران پر سخت معاشی دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے تاکہ تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور ایران کی جانب سے سخت موقف اپنایا جا رہا ہے۔