حکومت کہاں گئی؟--لاش تلاش کرنے کیلئے بھی چندہ

کاشف بٹ
کراچی… وہ شہر جو پورے ملک کی اکانومی کو اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے پھرتا ہے، مگر اپنے ہی بچے کو ایک کھلے مین ہول سے نہیں بچا پاتا۔ وہ شہر جہاں پورٹ سٹی کی ترقی، فلائی اوورز، پْل، انڈر پاسز اور معاشی سرگرمیوں کے بڑے بڑے قصے ہیں، مگر ایک تین سالہ بچے کی لاش نکالنے کے لیے ڈیزل کے پندرہ ہزار روپے بھی عوام نے جیبوں سے اکٹھے کیے۔ جی ہاں، یہ شہر ہے، بجٹ ختم ہونے کا نہیں، انسانیت ختم ہونے کا!حادثہ دل خراش تھا—تین سالہ معصوم اندھیرے میں گر گیا۔ زمین نے اسے نگل لیا اور اوپر کھڑے بڑے بڑے نظام کے دعویدار ایک شاول کا ڈیزل پورا نہ رکھ سکے۔ مشین کا پیٹ خالی تھا… شہر کا دل خالی… اور حکمرانوں کی جیبیں ہمیشہ کی طرح بھری ہوئی۔پھر کیا ہوا؟وہی جو ہمیشہ ہوتا ہے۔عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ جمع کیا۔کسی نے دس روپے دیے، کسی نے بیس، کوئی ہزار پر دلیر ہو گیا۔یوں ملا جلا کر پندرہ ہزار روپے کا ڈیزل ڈلوا کر ریاستِ مدینہ کی باقیات نے کھدائی کروائی اور بچے کی لاش نکالی۔مگر اس سارے منظر میں سب سے زیادہ دردناک وہ لمحہ تھا جب باپ کی حالت بدل رہی تھی۔کبھی زمین پر گر کر سینہ پیٹتا، کبھی بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھتا، شاید اْسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس کے اپنے شہر نے اس کا بچہ ہی اس سے چھین لیا۔اس کی نظریں ہر گزرتے لمحے میں خالی ہوتی جا رہی تھیں—بغیر سوال کیے، بغیر احتجاج کیے، بس ایک دکھ سے بھرے وجود کی طرح کھڑا تھا۔کیونکہ یہاں لوگ سوال نہیں کرتے… یہاں صرف لاشیں اٹھاتے ہیں۔
ماں… اْس کی حالت تو بیان سے باہر تھی۔وہ تو ابھی تک اس معصوم کو گود میں محسوس کر رہی تھی۔اْس کی چیخیں، اْس کی ہچکیاں، اْس کے لرزتے ہاتھ—یوں لگتا تھا جیسے اس کا سانس بھی بچے کے ساتھ مین ہول میں اتر گیا ہو۔ماں کا کلیجہ چیخ چیخ کر گواہی دے رہا تھا کہ اس شہر میں بچوں کی زندگیاں احتیاط نہیں، قسمت کا کھیل ہیں۔اور شہر…؟
کراچی تو بس معمول کے مطابق چلتا رہا۔ٹریفک رواں، کاروبار جاری، سیاست گرم…لیکن ایک گھر کا چولہا ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا ہو گیا۔یہ وہی کراچی ہے جو ملک کی معیشت کو سنبھالتا ہے۔اربوں کا ریونیو دیتا ہے، پورٹ چلاتا ہے، فیکٹریاں چلاتا ہے، کاروبار گھماتا ہے—مگر ایک مین ہول کا ڈھکن نہیں سنبھال سکتا۔ایک مشین کا ڈیزل نہیں بھر سکتا۔ایک بچے کی جان نہیں بچا سکتا۔اور پھر کہتے ہیں:
"کراچی روشنیوں کا شہر ہے!"جی ہاں، لیکن مین ہول کے اندر اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔یہ واقعہ نہیں… یہ تھپڑ ہے—اس نظام کے منہ پر،ان حکمرانوں کے منہ پر،اْن تمام کے منہ پر جو ٹی وی پر بیٹھ کر ترقی کے جھوٹے ترانے گاتے ہیں۔یہ کراچی ہے جناب!
یہاں ڈیزل بھی عوام ڈلواتی ہے…لاشیں بھی عوام نکالتی ہے…اور غم بھی عوام ہی اٹھاتی ہے۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا ہے:کراچی کب تک اپنے بچوں کی جان قیمت دیکھ کر بچائے گا؟
کب تک اس شہر کے والدین اپنے بچے قسمت کے حوالے کرتے رہیں گے؟شاید… جب ڈیزل کے پیسے حکومت دے دے گی۔
یا شاید… کبھی نہیں۔