خیبر پختونخوا کے بالائی علاقے، کشمیر اور گلگت بلتستان میں ناگہاں بارشوں نے شدید تباہی مچا دی ہے۔
مختلف اضلاع میں بادلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے نتیجے میں اب تک 146 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ کئی مکانات منہدم ہو گئے اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔
پاک فوج کی فوری امدادی کارروائیاں
مقامی انتظامیہ کی درخواست پر پاک فوج کے جوان فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پہنچے اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ سوات اور باجوڑ سمیت دیگر متاثرہ اضلاع میں فوجی ٹیمیں شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں اور ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ راشن اور ادویات کی فراہمی بھی جاری ہے۔باوجوڑ میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پھنسے ہوئے افراد کو بچانے کی کارروائی کی جا رہی ہے، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیوں کو تیز رفتار سے جاری رکھا گیا ہے۔ مقامی آبادی نے پاک فوج کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے "پاک فوج زندہ باد" کے نعرے بلند کیے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے بروقت اقدامات کو سراہا۔
موسم کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر امدادی کارروائیوں کو مزید مستعدی کے ساتھ جاری رکھا جا رہا ہے۔پاک فوج کا مقصد تمام سیلاب زدگان کو بحفاظت ریسکیو کرنا اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنا ہے، اور یہ فلڈ ریلیف آپریشن متاثرہ علاقوں میں جاری رہے گا۔